کیا 2018ء کرپٹو کرنسی کے لیے بدترین سال ثابت ہوگا؟

1,294

کرپٹو کرنسی کے لیے یہ ہفتہ بہت برا جا رہا ہے، اسی سے اندازہ لگا لیں کہ صرف ایک ماہ قبل بٹ کوائن اپنے عروج پر تھا لیکن اب عالم یہ ہے کہ قیمت نصف رہ گئی ہے۔ کچھ یہی حال ایتھریم، رپل اور لائٹ کوائن کا بھی ہے، جنہیں بہت نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ہفتے سے ظاہر ہو گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں اونچ نیچ کتنی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ابھی 17 دسمبر کو بٹ کوائن کی قیمت 19 ہزار 783 ڈالرز تھی جو گرتے گرتے منگل کے دن ساڑھے 9 ہزار ڈالرز سے بھی نیچے چلی گئی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بٹ کوائن اس بری طرح گرا ہو ، 2011ء اور 2013ء میں بھی ایسے ہو چکا ہے لیکن اب حالات کچھ مختلف ہیں۔ پس منظر دیکھیں تو حالات کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے کیونکہ آجکل کرپٹو کرنسی کو قانونی ضابطوں میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بٹ کوائن رکھنے والے افراد ڈر کے مارے انہیں بیچےجا رہے ہیں۔

ایک طرف امریکا نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر گہری نظر جمائی ہوئی ہے تو دوسری جانب چین نے کرپٹو ٹریڈنگ پر مزید کڑی پابندیاں لگائی ہیں جبکہ اہم ترین مارکیٹ جنوبی کوریا بھی ایسی ہی پابندیاں لگانے کے لیے پر تول رہا ہے۔ یہ اقدامات ہی ہیں جن کی وجہ سے اس وقت کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔

اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 2018ء پچھلے سال کی طرح ثابت نہيں ہوگا جب کرپٹو کرنسی خاص طور پر بٹ کوائن دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا تھا۔ اب اگر اسے ضابطے میں لانے کے لیے حقیقی اقدامات اٹھائے گئے تو ہو سکتا ہے مارکیٹ کے حالات بدل جائیں۔