لاش کے ذریعے اسمارٹ فون اَن لاک کرنے کی کوشش

2,279

امریکی پولیس نے ایک غیر معمولی اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے مقامی مردہ خانے میں ایک لاش تک رسائی حاصل کی ہے۔ 30 سالہ شخص لائنس فلپ کو چند ہفتے قبل لارگو، فلوریڈا کے ایک پولیس اہلکار نے مار دیا تھا۔ پولیس جاسوسوں نے مردہ خانے میں مردہ فلپ کی انگلیوں کے نشانات کے ذریعے اس کا اسمارٹ فون کھولنے کی کوشش کی، جو جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

کئی سالوں سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کہہ رہے ہیں کہ اسمارٹ فونز کی مضبوط انکرپشن کی وجہ سے کئی مرتبہ تحقیقات کے دوران ان کے لیے مسائل کھڑے ہو اجتے ہیں کیونکہ پولیس کو فون کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے انکرپشن کی وجہ سے وہ ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کرپاتی۔

ایسا تو کئی بار ہوا ہے کہ پولیس نے زندہ افراد سے فون ان لاک کروایا ہو لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی لاش سے فون کو ان لاک کرنے کی کوشش کی گئی ہو، بالخصوص جبکہ مقتول پولیس کے ہاتھوں ہی مارا گیا ہو۔

یہ واقعہ 30 مارچ 2018ء کو پیش آیا تھا جب لائنس فلپ کو لارگو پولیس کے افسران نے ایک پٹرول پمپ پر روکا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے فلپ کو گاڑی کے شیشے سیاہ ہونے کی وجہ سے روکا۔ پولیس کو اس کی گاڑی سے چرس کی بو بھی آئی۔ تفتیش کے دوران فلپ گاڑی میں دوبارہ گھس گیا اور بھاگنے کی کوشش کی۔ تعاقب کے دوران ایک پولیس افسر نے اپنے دفاع میں چار گولیاں فائر کیں۔ جب گاڑی رکی تو فلپ کو زخمی حالت میں باہر نکالا گیا اور بعد ازاں اسے ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے بڑی تعداد میں کوکین اور چرس گاڑی سے برآمد کی۔

اب معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اسی دوران اس اسمارٹ فون کو ان لاک کرنے کی بھی ضرورت محسوس کی گئی۔ دیکھتے ہيں آگے کیا ہوتا ہے؟