مصنوعی ذہانت کی مدد سے موت کی درست پیش گوئی کی جا سکتی ہے، گوگل کا دعویٰ

2,786

بلوم برگ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گوگل کی میڈیکل برین ٹیم مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہسپتال میں داخل مریضوں کی موت کے متعلق پیش گوئی کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اور حیران کن طور اس کی جانب سے کی گئی پیش گوئیاں ہسپتال کے وارننگ نظام سے کئی گنا بہتر درستگی کی حامل ہیں۔

گوگل ٹیم نے اس تحقیق کو سائنسی جریدے نیچر میں بھی شائع کروایا ہے۔ ٹیم نے یہ دعوی کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام امکانی الگورتھم کی مدد سے کام کرتا ہے۔ اور مریض کی سابقہ تاریخ، موجودہ حالت، بیماری کی شدت اور علاج وغیرہ جیسے عوامل کو مدنظر رکھ کر مریض کی موت، صحت یابی، حتی کہ ہسپتال میں دوبارہ داخلے کے وقت کا تعین بھی کرتا ہے۔

اس دعوے کی تصدیق اس وقت ہوئی جب ہسپتال میں چھاتی کے سرطان کی مریضہ لائی گئی جس کی ہسپتال میں ہی موت کے متعلق گوگل کے الگورتھم نے 19.9 فی صد امکان کی پیش گوئی کی، ہسپتال کے اپنے نظام نے یہ پیش گوئی صرف 9 فی صد رکھی تھی۔ جبکہ مریضہ دو ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد ہسپتال میں ہی وفات پا گئیں تھیں۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی اس امکانی نظام سے نتائج اخذ کرنے کے لیے گوگل ٹیم نے ہسپتال میں داخل ہونے والے 1٬14000 سے زائد مریضوں اور تقریبا 46 ارب ڈیٹا پوائنٹس کو استعمال کیا۔ یہ ڈیٹا پوائنٹس مریضوں کی صحت سے متعلقہ تمام دستی و تحریری ریکارڈ کی مدد سے حاصل کیے گئے تھے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں موجود طبی ماہرین نے بھی گوگل کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے کہ یہ نظام مریضوں کی موت کے متعلق درست پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ نظام ڈیٹا ان پٹ سے مدد لیتا ہے اس لیے ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیٹا کے اندراج میں معمولی سی انسانی غلطی کسی بڑی غلط فہمی کا نتیجہ بن سکتی ہے۔ اس لیے گوگل کو چاہیے کہ اس نظام کی ان پٹ کو زیادہ سے زیادہ خودکار بنانے کے لیے اقدامات کرے بصورت دیگر اس سے مطلوبہ طبی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔