مصنوعی ذہانت کی خوبیوں سے مالامال اینڈروئیڈ P ورژن

1,312

گزشتہ روز سے شروع ہونے والی گوگل کی سالانہ ڈویلپرز کانفرنس I/O میں سب سے زیادہ جس چیز کے چرچے ہیں، وہ ہے مصنوعی ذہانت۔۔۔

گوگل اپنی تمام ایپس اور ڈیوائسز پر مصنوعی ذہانت کو ابتدائی سطح پر نافذ کر رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال مصنوعی ذہانت کی خوبیوں سے مالامال اینڈروئیڈ کا P ورژن ہے۔

اینڈروئیڈ پی کی سب سے بڑی خوبی جو اسے تمام سابقہ ورژنز سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب بھی آپ اسمارٹ فون کو استعمال کرنا چاہیں گے تو اینڈروئیڈ پی آپ کے سابقہ رحجانات کا تجزیہ کر کے خودبخود یہ اندازہ لگا لے گا کہ آپ اس وقت کون سی ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں یا کون سا ٹاسک سر انجام دینا چاہتے ہیں۔ اسی کے حساب سے آپ کو متعلقہ سیکشن کا آسان ترین راستہ یعنی شارٹ کٹ بھی فراہم کیا جائے گا۔ جس کے ذریعے آپ براہ راست اپنی مطلوبہ ایپ یا ٹاسک پر جا سکیں گے۔

اس کے علاوہ اینڈروئیڈ پی میں حسبِ منشاء بیٹری اور چمک (Brightness) پر اختیار جیسے فیچر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مخصوص طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے اسمارٹ فونز کی بیٹری اب پہلے کی نسبت 30 فی صد زیادہ دیر تک چلے گی۔ اس فیچر کو Adaptive Battery کا نام بھی دیا گیا ہے۔

اسی طرح مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک اور اہم ترین فیچر بھی متعارف کروایا گیا ہے جس میں اسمارٹ فون کے بے تحاشہ استعمال اور اسے ہر وقت استعمال کرتے رہنے کا سد باب بھی ہو سکے گا۔ اس فیچر میں ایپ ٹائمر، ڈیش بورڈ اور وائنڈ ڈاؤن جیسے عوامل شامل ہوں گے۔ جن کی مدد سے اسمارٹ فون کے استعمال کنندہ کو فون کی ضرورت سے زیادہ استعمال سے جان چھڑانے میں مدد ملے گی۔

Animated GIF - Find & Share on GIPHY

گو کہ اینڈروئیڈ کے اس اگلے ورژن کا حتمی نام ابھی طے نہیں ہوا۔ اور فیوشیا آپریٹنگ سسٹم کی وجہ سے اینڈروئیڈ کا مستقبل بھی اتنا واضح نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود گوگل نے اینڈروئیڈ میں انقلابی تبدیلیاں لاتے ہوئے اس کے بیٹا ورژن کو علامتی طور پر P نام سے متعارف کروا دیا ہے۔ جو کہ فی الحال گوگل پکسل اور چند دیگر اسمارٹ فون کمپنیوں کے مخصوص ماڈلز کے لیے دستیاب ہو گا۔