مائیکروسافٹ ونڈوز لیپ ٹاپس جو دن بھر چلیں گے

2,600

مائیکروسافٹ اور کویلکوم اولین ARM پاورڈ ونڈوز 10 لیپ ٹاپس کی رونمائی کر رہے ہیں۔ توقع کے عین مطابق یہ لیپ ٹاپ ایچ پی، لینووو اور اسوس جیسے اداروں نے بنائے ہیں جن میں کویلکوم کا مشہور زمانہ اسنیپ ڈریگن 835 پروسیسر ہوگا۔ اس کی حامل اولین ڈیوائسز 2 اِن 1 ٹیبلٹ/لیپ ٹاپ جیسی ہوں گی جو ہم انٹیل بیسڈ پروسیسر کے ساتھ دیکھ ہی چکے ہیں، لیکن ان کا بنیادی فرق یہ ہے کہ ان میں ونڈوز10 ہوگی اور طاقت کویلکوم پروسیسر سے ملے گی۔

مائیکروسافٹ دکھا چکا ہے کہ ونڈوز10 کے اے آر ایم ورژن پر کس طرح ایڈوبی فوٹوشاپ چل رہا ہے اور ادارہ x86 ایپس کو ان نئی ڈیوائسز پر چلانے کے لیے خصوصی ایمولیٹر بھی بنا چکا ہے۔ یہ ڈیوائسز بظاہر تو عام لیپ ٹاپ جیسی ہی ہیں اور وہ تمام سافٹویئر چلائیں گی جن کی آپ کسی لیپ ٹاپ سے توقع رکھتے ہیں۔ ایچ پی اور اسوس نے تو اپنی ڈیوائسز کا اعلان کردیا ہے جبکہ لینووو آئندہ ہفتوں میں کرے گا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ڈیوائسز بنانے کی ضرورت کیا ہے؟ دراصل مائیکروسافٹ کویلکوم کے ساتھ مل کر ایسے پی سی بنانا چاہ رہا ہے جو ہمیشہ "آن” بھی رہیں اور ایل ٹی ای کنکشن کے ذریعے کنیکٹ بھی! یہ روایتی ونڈوز لیپ ٹاپ سے زیادہ ایک آئی پیڈ کے طور پر کام کریں گے یعنی آپ لیپ ٹاپ کھولیں اور فوری طور پر کام کرنے شروع ہو جائیں اور بند کریں اور بیٹری کے ختم ہونے کی ٹینشن سے آزاد ہو جائیں۔ ان ڈیوائسز میں جہاں بیٹری کے فائدے ہوں گے وہیں ایل ٹی ای کنیکٹیوٹی کا بھی فائدہ ہوگا جو عام طور پر ونڈوز لیپ ٹاپ میں نہیں ملتا۔

ایچ پی اور اسوس نے جو ڈیوائسز جاری کی ہیں ان میں ونڈوز 10 ایس شامل ہوگی جو صرف ونڈوز اسٹور میں موجود ایپس چلانے چلانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے لیکن صارفین (اب) مفت میں ونڈوز 10 پرو پر اپگریڈ ہو سکتے ہیں تاکہ وہ مکمل ڈیسک ٹاپ ایپس تک بھی رسائی حاصل کریں۔

مائیکروسافٹ نے ونڈوز10 کو اے آر ایم چپ سیٹس پر چلانے کے لیے تیار کیا ہے تاکہ تمام ونڈوز پروسیس، ایج براؤزر اور شیل بغیر ایمولیشن کے چلے۔ یہی بنیادی آئیڈیا ہے کہ فوٹو شاپ سے لے کر آفس اور کروم سے لے کر ہر عام ونڈوز ایپلی کیشن تک ایسی ڈیوائس پر چلے جس میں دن بھر کی بیٹری ہوی۔

ابتدائی طور پر جاری کردہ ڈیوائسز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ 20 سے 22 گھنٹے تک استعمال ہو سکتی ہیں۔ ویسے ماضی میں بھی "کنیکٹڈ موبائل پی سیز” کے آئیڈیاز پیش کیے گئے تھے لیکن سب بری طرح ناکام رہے۔ خود مائیکروسافٹ نے پانچ سال پہلے این ویڈیا کے ساتھ مل کر ونڈوز RT ٹیبلٹس بنائے تھے لیکن یہ کارکردگی اور بیٹری لائف دونوں لحاظ سے توقعات پر پورے نہیں اترے بلکہ ان کا آپریٹنگ سسٹم بھی روایتی ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز نہیں چلا سکا اور یوں یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہوا۔

لیکن اب لگتا ہے کہ مائیکروسافٹ نے اس ناکامی سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ نئے لیپ ٹاپ مارکیٹ میں دستیاب کسی بھی عام ڈیوائس جیسے ہی نظر آتے ہیں لیکن انہیں زیادہ پتلے ڈیزائن اور ہلکے وزن اور بہتر بیٹری لائف اور ایپ مطابقت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ ان میں وہ روایتی پنکھے بھی نہیں ہیں جو عام لیپ ٹاپس میں ہوتے ہیں یعنی یہ مکمل طور پر خاموش ہوں گے۔

اسوس کے NovaGo ٹو اِن ون میں 13.3 انچ کا ایچ ڈی ڈسپلے ہوگا، ساتھ ہی 8 جی بی تک کی ریم اور 256 جی بی کی اسٹوریج بھی۔ اس میں اسٹائلس سپورٹ بھی ہوگی جبکہ دو یو ایس بی 3.1 پورٹس، ایک ایچ ڈی ایم آئی پورٹ اور ایک مائیکرو ایس ڈی ریڈر بھی نصب ہوگا۔ اس کی قیمت 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج کے ساتھ 599 ڈالرز ہوگی جبکہ 799 ڈالرز والے ماڈل میں 8 جی بی ریم اور 256 اسٹوریج ہوگی۔

اسوس نووا گو

اسی طرح ایچ پی کا Envy x2 ہے جو نووا گو کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔ اس کا اسکرین سائز 12.3 انچ ہے جبکہ ریم 8 جی بی اور اسٹوریج 256 جی بی تک ہوگی۔ ایچ پی کی ڈیوائس میں بھی اسٹائلس سپورٹ ہوگی اور دونوں ہی ڈیوائسز میں ایل ٹی ای کنیکٹیوٹی تو ہوگی ہی۔ ایچ پی کی ڈیوائس اگلے موسم بہار میں دستیاب ہوگی۔

یہ اولین ڈیوائسز اے آر ایم پر ونڈوز کی نئی کوششوں کا مستقبل متعین کریں گی۔ آئندہ کچھ عرصے میں ہمیں ایسے ٹیبلٹ اور ہائبرڈ ڈیوائسز مل سکتی ہیں جو یہ دنیا سافٹویئر چلائیں گی۔

ایچ پی کا Envy x2

اگر کارکردگی اور بیٹری لائف دونوں لحاظ سے یہ مائیکروسافٹ اور کویلکوم کے دعووں کے مطابق رہیں تو اگلا سال ونڈوز لیپ ٹاپ کے لیے بہت ہی دلچسپ ہوگا۔