موبائل گیمز، جو آپ کی جاسوسی کرتے ہیں

1,164

اسمارٹ فون کے ذریعے جاسوسی اب کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے گو کہ اس کا کھلے عام اقرار نہیں کیا جاتا لیکن درحقیقت ایسا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس دوڑ میں موبائل گیمز بھی پیش پیش ہیں جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ فون کے مائیک کے ذریعے سننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں آپ کی باتوں میں دلچسپی نہیں بلکہ ان چیزوں کے بارے میں ہے جو آپ دیکھتے ہیں۔

اسمارٹ فون عام طور پر مائیکروفون تک رسائی مانگتی ہیں لیکن چند گیمز اس کے ذریعے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ ٹیلی وژن پر کیا دیکھتے ہیں؟ کون سے اشتہارات پر آپ چینل تبدیل نہیں کرتے اور کون سی موویز ہیں جو آپ دیکھتے رہتے ہیں۔

یہ انکشاف معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے جس کے مطابق یہ محدود نہیں بلکہ بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے اور کہیں زیادہ خفیہ انداز میں۔ اخبار نے گوگل پلے اسٹور میں 250 سے زیادہ ایسے گیمز پائے ہیں جو صارفین کی ٹی وی عادات کے بارے میں جاننے کے لیے ایک ہی قسم کا سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جو الفانسو نامی کمپنی بناتی ہے۔ جیسا کہ ایک گیم Endless 9*9 puzzle ہے، وہ تو انسٹال ہوتے ہی لوکیشن اور مائیکروفون رسائی مانگتا ہے، بغیر کسی وجہ کے۔ یہ ٹیلی وژن دیکھنے کی تفصیلات کو ٹریک کرتا ہے تاکہ آپ کو متعلقہ ٹیلی وژن مواد اور اشتہارات دکھا سکے اور اور اس کا علم آپ کو تبھی ہوگا جب آپ گیمز کی سیٹنگ میں جائیں گے۔

امریکا کا فیڈرل ٹریڈ کمیشن ماضی میں ان حرکتوں کے خلاف کمپنیوں کو متنبہ بھی کر چکا ہے۔ 2016ء میں اس نے درجن بھر اینڈرائیڈ ڈیولپرز کو ایسا ہی ایک سافٹ ویئر SilverPushپش استعمال کرنے پر خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ صارفین کو آگاہ کریں کہ اُن کی ایپس کس طرح کی معلومات جمع کر رہی ہیں اور کیوں؟ یہ ایپس ڈيٹا کلیکشن کے بارے میں صارفین کو کچھ آگاہ نہیں کر رہی تھیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ان میں سے چند ایپس کو فون کے مائیکروفون کو اس وقت بھی مانیٹر کر رہی ہیں، جب وہ بند ہوتا ہے۔ گو کہ زیادہ تر ایپس اینڈرائیڈ پر ہیں لیکن ایپل کے ایپ اسٹور پر بھی چند ایسی ایپس ہونے کی اطلاع ہے ۔

کئی سازشی نظریات تو موجود ہیں ہی کہ بڑی ایپس مثلاً فیس بک صارفین کے اسمارٹ فون مائیکس کے ذریعے سنتی ہیں کہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں اور پھر ان کی گفتگو کے مطابق اشتہارات دکھاتی ہیں۔ ویسے بھی فیس بک کو آپ کی باتیں سننے کی ضرورت کیا ہے؟ اسے تو بہت کچھ معلوم ہے، بلکہ بہت کچھ تو ہم خود بتا دیتے ہیں۔