موبائل فون انسانی صحت کے لیے خطرہ نہیں

1,088

ایک تازہ ترین تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ موبائل فون سے ہونے والی تابکاری (radiation) سے انسانوں کو اتنے خطرات لاحق نہیں، جتنے سمجھے جاتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران نر چوہوں کو سیل فون کی تابکاری کی زد میں رکھا گیا لیکن ان کے دل کے گرد رسولی میں بہت معمولی اضافہ ہوا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک عام موبائل صارفین کو جس طرح کی تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے کئی گنا زیادہ تابکاری کا سامنا ان تجربات کے دوران چوہوں کو کرنا پڑا ۔

یہ بحث بہت عرصے سے جاری ہے کہ کہیں موبائل فونز کا استعمال کینسر کا باعث تو نہیں بنتا؟ خاص طور پر دماغی سرطان کا؟ کیونکہ ہم اپنے فونز کا زیادہ تر استعمال اپنے چہرے کے قریب رکھ کر کرتے ہیں ۔ بلاشبہ فونز سے تابکاری نکلتی ہے لیکن یہ ریڈیو فریکوئنسی تابکاری ہے، جو ایکس رے یا نیوکلیئر تابکاری سے کہیں کم توانائی کی ہوتی ہے۔ ان دونوں سے خارج ہونے والی آیونائزنگ تابکاری ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہے اور بالآخر کینسر کا سبب بنتی ہے لیکن سیل فون کی ریڈیو فریکوئنسی تابکاری اس طرح کام نہیں کرتی اور آج کی تحقیق کے نتائج یہ بات ثابت کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ریڈیوفریکوئنسی تابکاری کی بہت بڑی مقدار کا سامنا کرنے والے نر چوہوں کے دل کے گرد رسولیوں میں تو معمولی اضافہ ہوا لیکن مادہ چوہیا میں ایسا بالکل نہیں دیکھا گیا۔ دوسری تحقیق میں نر اور مادہ دونوں چوہوں میں صحت کے مسائل بالکل نہیں دیکھے گئے۔

دونوں تحقیق میں ریڈیو فریکوئنسی تابکاری کے دماغی رسولی کا سبب بننے کے شواہد نظر نہیں آئے۔ البتہ سائنس دان اس پر مزید تحقیق کریں گے۔ ویسے اب تک تحقیق کے مسودے کی آزاد سائنس دانوں نے توثیق نہیں کی ہے۔

امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن بھی کہتی ہے کہ موبائل فونز سے نکلنے والی ریڈیوفریکوئنسی تابکاری اب تک محفوظ ہے لیکن یاد رہے کہ یہ تحقیق اور تجربات 2جی اور 3جی فریکوئنسی پر کیے گئے ہیں اور زیادہ جدید 4جی اور 5جی نیٹ ورکس نہیں ۔

پھر بھی اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس سے یہی کہا جا سکتا ہے موبائل فون اور کینسر کے درمیان کوئی ربط نہیں۔ بلکہ جب سے موبائل فون کا استعمال بڑھا ہے تب سے عام صارفین میں کینسر کی شرح میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا گیا۔