مودی کی ایپ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا

1,282

بھارتی وزیراعظم کی آفیشل ایپ صارفین کے ڈیٹا کا استحصال کرتی پائی گئی ہے اور اس خبر نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ ایک سکیورٹی ماہر کے مطابق یہ ایپ صارفین کا ڈیٹا ایک تھرڈ پارٹی ڈومین پر بھیج رہی ہے جو غالباً ایک امریکی ادارہ ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب فیس بک کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کے عام ہونے کی خبریں زبان زد عام میں ہیں، ایلیٹ آلڈرسن نامی ایک محقق کا کہنا ہے ہے کہ نریندر مودی کی ایپ نے اب بہت خاموشی کے ساتھ اپنی پرائیویسی پالیسی تبدیل کرلی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی تنقید سے بچا جا سکے۔ اس خبر کے ساتھ ہی حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی میدان میں آ گئے ہیں جنہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

البتہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسے کسی بھی الزام کی تردید کی ہے کہ صارفین کا ڈیٹا کسی تیسرے فریق کو بھیجا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھارت کی وزارت قانون و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا تھا کہ کانگریس کے متنازع ڈیٹا اینالٹکس ادارے کیمبرج اینالٹکا کے ساتھ تعلقات کی خبریں ہیں۔ وزیر روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں اپنی وضاحت پیش کریں۔

مودی نے اپنی آفیشل ایپ 2015ء میں جاری کی تھی۔ وہ ویسے ہی سوشل میڈیا پر بہت وسیع حلقہ رکھتے ہیں اور 41.4 ملین فالوورز کے ساتھ دنیا کے پانچ مقبول ترین سیاست دانوں میں سے ایک ہیں، لیکن اس پر ایپ کا اضافہ بھی کیا گیا، جو اب تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔