مسافر کے قتل کے بعد چین کی "اوبر” سروس بند

1,776

چین میں ایک مسافر کے قتل کے بعد رائیڈ ہیلنگ کی سب سے بڑی سروس دیدی چکسنگ (Didi Chuxing) نے اپنی کارپولنگ سروسز میں سے ایک ہچ (Hitch) کو ایک ہفتے کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

قتل ہونے والی 21 سالہ ایئر ہوسٹس کا نام لی بتایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ 5 مئی کو پیش آیا جب وہ ہچ کے ذریعے صوبہ ہینان کے چینگچو ایئرپورٹ سے اپنے گھر جا رہی تھیں۔ چینی میڈیا کے مطابق لی کو ڈرائیور نے ایک ہتھیار سے قتل کیا۔

دیدی 2016ء سے اپنے ڈرائیورز کی شناخت کے لیے فیشل ریکگنیشن یعنی چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ڈرائیورز کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے اور ساتھ ہی شفٹ کے آغاز میں فراڈ سے بچنے کے لیے لائی گئی تھی۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی آئیڈیا یہی تھا کہ ڈرائیور اکاؤنٹ کا مالک سیلفی لے گا اور ریکارڈ دیدی کے ڈیٹابیس سے میچ ہوگا تبھی ایپ کھلے گی۔ لیکن اس افسوسناک واقعے میں یہ ٹیکنالوجی ناکام ہوئی ہے۔

ملزم، جس کا نام لی چینہوا بتایا جا رہا ہے، اس کے پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہی نہیں تھا البتہ وہ اپنے والد کے نام پر بنائے گئے اکاؤنٹ کو استعمال کرتے ہوئے رائیڈز لینے میں کامیاب ہوا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے سے قبل اسے جنسی ہراسگی کی ایک شکایت بھی موصول ہوئی تھی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ملزم کے والد کے خلاف تھی یا مشتبہ فرد کے خلاف۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی وہ فرد اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا بلکہ لاگ ان ہونے اور رائیڈز لینے میں بھی اسے دشواری نہیں ہوئی۔

ہچ ایک انٹر-سٹی کارپولنگ سروس ہے جو طویل فاصلے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس میں مسافر ایندھن اور ڈرائیور کا بنیادی خرچہ دیتا ہے۔

اب دیدی ہچ کو معطل کرکے اگلے ایک ہفتے تک تمام رجسٹرڈ ڈرائیورز پر نظرثانی کرے گا۔ اس نے قاتل کے خلاف کوئی بھی معلومات فراہم کرنے پر دس لاکھ یوآن یعنی ڈیڑھ لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم کی بھی پیشکش کی ہے۔

دیدی چین کا سب سے بڑا رائیڈہیلنگ ادارہ ہے، جس نے 2016ء میں اوبر کا مقامی بزنس خرید لیا تھا لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسا کوئی اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے۔ دو سال قبل ایک دیدی ڈرائیور نے شینژین میں ایک خاتون کو بعد از ڈکیتی قتل کردیا تھا۔ امریکا، آسٹریلیا، لبنان، سنگاپور اور بھارت میں بھی اوبر ڈرائیورز کے ہاتھوں ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔