مستقبل کے بارے میں ایلون مسک کی پیشین گوئیاں

1,424

قاتل روبوٹس، بجلی سے چلنے والے ہوائی جہاز اور مریخ پر زندگی، یہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک کی مستقبل کے حوالے سے محض چند پیشن گوئیاں ہیں۔ اگر آپ ان کی جرات مندانہ پیشن گوئیوں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں:

ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بجلی سے


مسک کا کہنا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب راکٹوں کے علاوہ نقل و حمل کے تمام ذرائع محض بجلی کا استعمال کریں گے۔ 2015ء میں ایک انٹرویو کے دوران مسک نے کہا تھا کہ "ہوائی جہاز اور بحری جہاز، اور دیگر تمام ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بجلی سے چلے گی۔ یہ آدھی الیکٹرک نہیں بلکہ مکمل طور پر بجلی کی ہوگی۔”رواں سال جولائی میں نیشنل گورنرز ایسوسی ایشن کے ایک پینل کے دوران بھی مسک نے اسی بات کا اعادہ کیا تھا۔


امریکا کی نصف گاڑیاں الیکٹرک

جولائی میں اسی تقریب میں مسک نے یہ بھی کہا تھا کہ صرف ایک دہائی میں امریکا میں نصف گاڑیاں بجلی سے چلنے والی ہوں گی۔


خودکار ڈرائیونگ عام


20 سالوں میں خودکار یعنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں اتنی عام ہو جائیں گی کہ ڈرائیور والی گاڑی ایسی ہوگی جیسے اب کسی کے پاس گھوڑا ہے، یعنی صرف شوق کی خاطر۔ 2015ء میں ایک انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے کہا تھا کہ مستقبل میں تمام کاریں مکمل طور پر خود مختار ہوں گی۔ ایسی گاڑیاں شاید ہی نظر آئیں جنہیں ڈرائیور چلاتے ہوں، بلکہ انہیں رکھنا ایسا ہوگا جیسے جدید دور میں نقل و حمل کے لیے گھوڑے استعمال کیے جائیں۔ رواں سال مسک نے یہ بھی کہا تھا کہ 20 سال میں کاروں کے اندر اسٹیئرنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔


لاکھوں نوکریاں خطرے میں

سیلف ڈرائیونگ کاروں کی آمد سے ملازمتوں کی مارکیٹ کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔ دبئي میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مسک نے کہا تھا کہ آٹومیشن کے نتیجے میں بہت کم کام ایسے ہوں گے جو روبوٹ کے مقابلے میں انسان بہتر کر پائے گا۔


2025ء تک مریخ پر


اکتوبر کے اوائل میں انٹرنیشنل آسٹروناٹیکل کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے مسک نے 2025ء تک انسانوں کو مریخ پر لے جانے کے لیے اپنے منصوبے کا انکشاف کیا تھا۔ مسک کا کہنا تھا کہ وہ 2024ء میں انسانوں کے ساتھ ایک خلائی جہاز کے مریخ پر جانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ یہ اولین مسافر 2025ء تک سرخ سیارے پر پہنچیں گے۔ مسک نے کہا کہ ہم مارس پر نوآبادی قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسے رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ بنائیں گے۔


جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک مصنوعی ذہانت

شمالی کوریا کے میزائل تجربات نے بہت بڑے حلقے کو نیوکلیئر جنگ کے خوف میں مبتلا کردیا ہے لیکن ایلون مسک متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ خطرناک کچھ ہے۔ جولائی میں مسک نے کہا تھا کہ میری رائے میں تہذیبِ انسانی جس سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے وہ مصنوعی ذہانت ہے۔


مصنوعی ذہانت تیسری جنگ عظیم کا سبب


ستمبر کے اوائل میں مسک نے کہا تھا پر مصنوعی ذہانت میں آگے نکلنے کا مقابلہ ممکنہ طور پر تیسری جنگ عظیم کا سبب بنے گا۔ مسک کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا تھا جب روس کے صدر ولادیمر پیوتن نے کہا تھا کہ جو ملک مصنوعی ذہانت میں آگے نکل جائے گا وہ "دنیا کا حکمران” بنے گا۔


قاتل روبوٹس

جولائی میں مسک نے کہا تھا کہ ایسے روبوٹس موجود ہیں جو گھنٹوں میں ہی چلنا سیکھ جاتے ہیں، شاید ہی کوئی زندہ جسم ایسا ہو جو اتنی جلدی سیکھتا ہو۔ اب سب سے خطرناک پہلو ہے کہ جعلی خبروں پر ہی جنگ شروع کر سکتی ہے۔ آخر قلم تلوار سے طاقت ور جو ہے۔


سرنگوں کا اہم کردار

بورنگ کمپنی کے ساتھ ایلون مسک کا ارادہ لاس اینجلس شہر کے نیچے زیر زمین سرنگوں کا جال بچھانے کا ہے جو الیکٹرک اسکیٹس پر گاڑیوں کو حرکت دے گا۔ یہ سرنگیں گاڑیوں کو 125 میل فی گھنٹے کی رفتار سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی سہولت دیں گی۔


آدھا انسان، آدھا روبوٹ

دبئی میں ورلڈ گورنرز سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مسک نے کہا تھا کہ انسان کو اپنی بقا کے لیے نصف روبوٹ بننا پڑے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی ذہانت اور ڈیجیٹل ذہانت کا قریبی ملاپ ہوگا۔