مستقبل کی شاہراہ چین میں

1,803

یہ چین میں بنائی گئی مستقبل کی شاہراہ ہے، جس پر سولر پینلز نصب ہیں جو ٹرانسپورٹ کی دنیا میں انقلاب کی رفتار کو اور بڑھا سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کا یہ شاہکار مشرقی شہر جینان میں 1080 میٹر یعنی 3540 فٹ طویل سڑک کے حصے پر شفاف کنکریٹ کے نیچے نصب ہے۔ ہر روز سڑک کے اس حصے سے 45 ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں اور یہاں نصب سولر پینلز اتنی بجلی پیدا کر لیتے ہیں کہ شاہراہ پر نصب روشنیوں کے ساتھ ساتھ 800 گھروں کو بجلی فراہم کر سکیں۔

چیلو ٹرانسپورٹیشن ڈیولپمنٹ گروپ کمپنی کہیں زیادہ بجلی پیدا کرنا چاہتی ہے کیونکہ اس کا خواب ہے کہ مستقبل کی سڑکیں بھی گاڑیوں کی طرح اسمارٹ ہوں۔ حکومت کہتی ہے کہ 2030ء تک 10 فیصد گاڑیاں مکمل طور پر سیلف ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

صدر شی جن پنگ کی حکومت "ساختہ چین 2025ء” کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ مینوفیکچرنگ میں ملک کو دور جدید کی بڑی طاقت بنادے، جو صرف جوتے، کپڑےاور کھلونے ہی برآمد نہ کرے بلکہ ٹیکنالوجی میں بھی انقلاب برپا کرے۔ اس منصوبے میں جن 10 شعبوں کو نمایاں کیا گیا ہے ان میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روبوٹکس بھی شامل ہیں۔

چین مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے بھی ایک علیحدہ منصوبہ رکھتا ہے جس کا ہدف 2030ء تک دنیا کا اہم ترین AI انوویشن سینٹر بنانا ہے۔ اسی میں انٹیلی جینٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم بھی شامل ہے کہ جس میں خودکار طور پر چلنے والی گاڑیوں اور انٹیلی جینٹ روڈ سسٹمز پر سب سے زیادہ توجہ ہوگی۔

جینان کی یہ سڑک اس بہت بڑے منصوبے کا محض پہلا قدم ہے۔ یہ ایک قدیم صنعتی شہر ہے جس کی آبادی 70 لاکھ کے قریب ہے اور یہ چین میں ہیوٹی ڈیوٹی ٹرک کے سب سے بڑے ادارے سینو ٹرک کا شہر بھی ہے۔

بنائی گئی اس سڑک کی تین سطحیں ہیں جن کا بالائی حصہ شفاف ہے تاکہ سورج کی روشنی نیچے موجود سولر پینلز تک پہنچ سکے۔ اس کی بالائی سطح میں ری چارجنگ وائرز اور سینسرز ہیں جو درجہ حرارت، ٹریفک کے بہاؤ اور وزن کے دباؤ پر نظر رکھتے ہیں۔ سڑک کی دو لینز پر سولر پینلز لگے ہوئے ہیں۔ تجرباتی سڑک ابھی اتنی چھوٹی ہے کہ یہ الیکٹرک کارز کے لیے وائرلیس چارجنگ تو نہیں کر سکتی لیکن جیسے ہی اس کو پھیلایا جائے گا تو یہ ناقابلِ یقین سہولت بھی حاصل ہو جائے گا۔ روایتی سڑکوں کی طرح اس جدید سڑک کی زندگی بھی 15 سال بتائی جاتی ہے۔

اس سڑک پر آنے والی لاگت 7 ہزار یوآن فی مربع کلومیٹر ہے یعنی اس چھوٹے سے حصے کو بنانے پر بھی 41 ملین یوآن یعنی 6.5 ملین ڈالرز کی لاگت آئی ہے۔ البتہ اسے بڑے پیمانے پر بنایا جائے تو یہ لاگت گھٹتے گھٹتے 3 ہزار یوآن فی مربع میٹر تک آ سکتی ہے۔ یہ ابتدائی طور پر تو بہت بڑی لاگت ہے لیکن کیونکہ اس کا تمام تر ساز و سامان ادارے نے خود اپنی لیبارٹری میں تیار کیا ہے اس لیے یہ بہت مہنگا پڑا ہے۔ مستقبل میں اگر یہ سامان بڑے پیمانے پر تیار کروایا جائے تو قیمت میں یقیناً کمی آئے گی۔

2025ء تک چین میں خودکار گاڑیوں کی تعداد اندازاً تین کروڑ تک ہوگی۔ تب ہو سکتا ہے کہ یہ سڑک بھی اتنی جدید ہو جائے کہ گزرنے والی ہر گاڑی کے بارے میں سب کچھ جانے اور اس کے وزن اور رفتار کے ساتھ ساتھ اسے ری چارج کرنے کی سہولت بھی دے گی۔ اس وقت بھی یہ عالم ہے کہ دنیا بھر میں بجلی سے چلنے والی نصف گاڑیاں چین میں فروخت ہوتی ہیں اور چین امریکا سے بھی بڑی مارکیٹ ہے۔ اس لیے مستقبل دور نہیں۔