نمک کے دانے سے بھی چھوٹا کمپیوٹر

2,004

طاقتور کمپیوٹرز کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ مسئلہ اب ختم ہونے والا ہے کیونکہ آئی بی ایم لا رہا ہے اس کا حل ۔ 19 مارچ امریکی ادارے کی اہم ترین کانفرنس "آئی بی ایم تھنک 2018ء” کا پہلا دن تھا ، جس میں کمپنی نے رونمائی کی دنیا کے سب سے چھوٹے کمپیوٹر کی۔ یہ اتنا چھوٹا ہے، اتنا چھوٹا ہے کہ نمک کا ایک دانہ بھی اس سے بڑا ہے۔ لیکن اس کے چھوٹے سائز پر مت جائیں کیونکہ یہ 1990ء کے x86 چپ جتنی طاقت رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو یہ کم لگتا ہو، بلاشبہ یہ آج کے کمپیوٹرز جتنا طاقتور نہیں لیکن دو پہلو اسے بہت بڑی پیشرفت بناتے ہیں۔ ایک اس پر آنے والا خرچہ جو 10 سینٹ سے بھی کم ہے اور دوسرا اس کا حجم۔

کمپنی کے مطابق اس میں "چند لاکھ ٹرانزسٹرز” ہوں گے، جو اسے "ڈیٹا کی نگرانی، تجزیے، ترسیل یہاں تک کہ اس پر کام کرنے” کی طاقت بھی دیتے ہیں۔

بائیں: 64 مدربورڈز جن میں سب سے اوپر بائیں جانب دو ننھے کمپیوٹرز نصب ہیں۔ دائیں: ننھا کمپیوٹر جو ایک مدر بورڈ پر نصب ہے اور نمک کے ڈھیر پر رکھا ہوا ہے۔

اور ہاں! بٹ کوائن والے بھائی پریشان مت ہو، یہ بلاک چین کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔ یہ کمپیوٹر بالخصوص بلاک چین ایپلی کیشنز کے لیے ایک ڈیٹا سورس ہوگا۔ اسے سامان کی ترسیل کو ٹریک کرنے اور چوری پکڑنے کے لیے بھی بنایا گیا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بنیادی کام بھی کر سکتا ہے۔

آئی بی ایم کے مطابق یہ تو محض آغاز ہے۔ ادارے کے سربراہ اروند کرشن کہتے ہیں کہ اگلے پانچ سالوں کے اندر کرپٹو گرافک اینکرز جیسا کہ ink dots یا نمک کے دانے سے بھی چھوٹے یہ کمپیوٹرز روزمرہ چیزوں اور آلات میں نصب کیے جائیں گے۔

یہ ابھی تک واضح نہیں کہ اس ننھے شاہکار کو جاری بھی کیا جائے گا، فی الحال آئی بی ایم کے محققین پہلے پروٹوٹائپ پر تجربات کر رہے ہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ مستقبل ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept