ناسا نے چھوٹے نیوکلیئر ری ایکٹر کا تجربہ کرلیا، مریخ پر استعمال ہوگا

1,583

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے "ناسا” اور محکمہ توانائی نے ایک چھوٹے وژن نیوکلیئر ری ایکٹر کا تجربہ کیا ہے جسے "KRUSTY” کا نام دیا گیا ہے یعنی Kilowatt Reactor Using Stirling Technology۔ یہ تجربہ امریکی ریاست نیواڈا کے صحرا میں کیا گیا ہے، اور مستقبل میں خلائی کھوج بالخصوص مریخ کے لیے انسانی مشن میں بہت کام آئے گا ۔

خبروں کے مطابق اس سسٹم کے ابتدائی تجربے کو ایک محفوظ ماحول کے اندر کیا گیا اور ارادہ ہے کہ مارچ میں مکمل طاقت کے ساتھ تجربہ کیا جائے گا۔ ناسا کے لی میسن نے کہا کہ کلو پاور ٹیسٹ پروگرام ہمیں اعتماد دے گا کہ یہ ٹیکنالوجی خلائی پرواز کی ترقی کے لیے تیار ہے ۔

ماضی میں ناسا ریڈیو ایکٹو تھرموالیکٹرک جنریٹرز استعمال کرتا تھا جو توانائی کے حصول کے لیے قدرتی طور پر ختم ہونے والے ریڈیو ایکٹو عناصر کی گرمی استعمال کرتے تھے جیسا کہ Cassini اور Curiosity جیسے خلائی منصوبے۔ حالیہ تجربہ اس سےمختلف ہے اور یہ ایک متحرک fission ری ایکشن استعمال کرتا ہے، یعنی ایٹمز کو توڑتا ہے۔

ناسا نے 60ء کی دہائی کےبعد سے کسی متحرک فژن ری ایکٹر پر تجربہ نہیں کیا۔ یہ پروٹوٹائپ یورینیم 235 ری ایکٹر کور کو استعمال کرتا ہے جو ایک ٹشو پیپر رول کے سائز کا ہے۔

کلو پاور سے 1 سے 10 کلو واٹ تک کی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے اور مریخ کے منصوبے کو 40 کلوواٹ کی ضرورت ہوگی ۔ اس لیے ناسا ایسے چار سے پانچ ری ایکٹر مریخ پر بھیجے گا۔

ناسا کے اسپیس ٹیکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ کے اسٹیو جورچیزک کا کہنا ہے کہ کلو پاور کا چھوٹا سائز اور زبردست صلاحیت کی وجہ سے ہم ایک ہی مرتبہ میں متعدد ری ایکٹرز مریخ پر بھیج سکیں گے، اور ان سے کئی کلو واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔

مریخ کا ماحول بہت مختلف ہے، زمین کے مقابلے میں سورج کی روشنی کم ہے، چاند کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ پھر رات میں مریخ کا موسم بہت ٹھنڈا ہوتا ہے یہاں گرد کے ایسے طوفان آتے ہیں جو ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں بھی جاری رہتے ہیں۔ ان حالات میں یہ ری ایکٹر دس سال تک کام کر سکے گا اور مریخ پر بسنے والوں کو بجلی فراہم کرے گا، ان کے ساز و سامان اور دیگر آلات کو توانائی دے گا، یہاں تک کہ برف کو کارآمد ایندھن میں بدل سکتا ہے۔

شمسی توانائی پر انحصار کے بجائے کلو پاور کا استعمال مریخ کی طوفانی اور ٹھنڈی راتوں میں بہت کارآمد ہوگا۔ میسن کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مزید بہتر ہوتی جائے گی اور مستقبل میں کلو واٹ ہی نہیں بلکہ میگاواٹ بجلی بھی پیدا کر سکتی ہے۔