نئے سانحے کے بعد، آئیکیا نے پھر سے فرنیچر واپس منگوا لیا

1,546

فرنیچر بنانے والی معروف سویڈش کمپنی آئیکیا IKEA نے الماری گرنے کے واقعے میں ایک بچے کی ہلاکت کے بعد اپنے مخصوص قسم کے فرنیچر کو مارکیٹ سے اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ سال امریکہ اور کینیڈا میں کمپنی کی تیار کردہ الماریوں کے گرنے کے متعدد واقعات میں 3 بچوں کی ہلاکت کے بعد کمپنی نے ایسا ہی اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ لوگوں کو ان کی رقوم واپس کرے گی یا الماریوں کو دیوار میں مفت فکس کرنے میں مدد کرے گی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کمپنی نے تینوں بچوں کے خاندانوں کو مجموعی طور پر 50 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کیا ہے تاہم 17 ملین الماریوں میں سے کمپنی نے محض ایک ملین الماریاں ہی واپس منگوائی ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔

ڈیوڈک Dudek فیملی جن کا دو سالہ بچہ آئیکیا کی الماری گرنے کے واقعے میں ہلاک ہوگیا تھا کے وکیل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ انہیں کمپنی کی طرف سے روزانہ کی بنیادوں پر ای میلز پر مختلف آفرز موصول ہو رہی ہیں تاہم ان کے بیٹے کی موت کا سبب بننے والی الماری کو واپس لینے یا اسے دیوار پر فکس کرنے کے حوالے سے کمپنی خاموش ہے۔

آئیکیا کا کہنا ہے کہ اس نے ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر فرنیچر واپس بلانے کے اشتہارات شائع کیے ہیں تاہم کمپنی نے تسلیم کیا کہ حالیہ حادثے کے بعد انہیں یقیناً فرنیچر واپس منگوانے کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ فرنیچر تیار کرنے والی سویڈش کمپنی آئیکیا کے تیار کردہ فرنیچرز کے گرنے کے مختلف واقعات میں اب تک 8 بچے ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے پہلا واقعہ 28 سال پرانا ہے تاہم باقی تمام واقعات 2002 کے بعد کے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept