شمالی کوریا بٹ کوائن ایکسچینجز کو ہیک کرنے کے چکر میں

1,118

بٹ کوائن کی قیمت روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہیکرز بھی رال ٹپکاتے نظر آ رہے ہیں کہ کہیں سے یہ قارون کا خزانہ ہاتھ لگ جائے۔ شمالی کوریا کے ہیکرز تو اب بٹ کوائن ایکسچینجز لوٹنے کی کوششوں میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ سمیٹ سکیں۔

ایک ایسے وقت میں جب کم جونگ ان کی حکومت نئی پابندیوں کا سامنا کررہی ہے، ملک کی معیشت کا پہیہ رکنے والا ہے، تب بٹ کوائن کی آنکھیں چندھیا دینے والی چمک شمالی کوریا کو دیوانہ کررہی ہے۔

رواں سال کے آغاز پر ایک بٹ کوائن کی قیمت ایک ہزار ڈالرز سے بھی کم تھی اور اب یہ 20 ہزار ڈالرز کے سنگ میل کو عبور کرنے والا ہے۔ بڑھتی ہوئی یہ قیمت محض سرمایہ کاروں کے لیے ہی پرکشش نہیں بلکہ ہیکرز بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کر رہےہیں ۔ آزاد سکیورٹی ماہر ایشلی شین کے مطابق بٹ کوائن کے خلاف حملوں کی بڑی وجہ یہی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔ پھر یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے عام کرنسی کے مقابلے میں حاصل کرنا زیادہ آسان ہے۔

وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ تین مشتبہ ہیکنگ گروپوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ہیں اور یورپ اور جنوبی کوریا کے بینکوں میں کارروائیاں کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اے ٹی ایم کمپنی اور بٹ کوائن ایکسچینج کو بھی نشانہ بنایا ہے ۔

اس سے پہلے کسی بھی ملک کے سرکاری ہیکرز عام طور پر ایسے سائبر حملے کرتے تھے جس کا مطلب خفیہ معلومات حاصل کرنا ہوتا تھا لیکن حال ہی میں ہم نے پایا کہ ایسے گروپ مالیاتی اداروں جیسا کہ بینکوں اور بٹ کوائن ایکسچینجز کو بھی ہدف بنا رہے ہیں تاکہ مالی فائدہ سمیٹیں ۔ ماہر کا کہنا ہے کہ گو کہ یہ کوششیں ناکام ہوئیں لیکن بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اس پر حملے ہوتے رہیں گے ۔

ستمبر میں چھٹے نیوکلیئر تجربے کے بعد شمالی کوریا کو نئي پابندیوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس تجربے کے بعد شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کی اتفاق رائے سے منظوری دی جبکہ امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے نومبر میں نئی پابندیاں عائد کی۔ جنوبی کوریا نے گزشتہ اتوار کو شمالی کوریا کے 20 اداروں اور 12 شخصیات کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کیا ۔

دوسری جانب سکیورٹی ادارے فائرآئی نے ستمبر میں بتایا تھا کہ شمالی کوریا کے ہیکرز مئی 2017ء سے اب تک جنوبی کوریا کے کم از کم تین ایکسچینجز سے بٹ کوائن چرا چکے ہیں۔

اب لگتا ہے اس مہم کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں چرائی جائیں گی تاکہ نئی پابندیوں کے بعد ملک کے ابتر ہوتے حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔