نیوکلیائی ٹائی ٹینک، دنیا کا پہلا تیرتا نیوکلیائی بجلی گھر

1,082

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق روس نے دنیا کا پہلا تیرتا ہوا ایٹمی بجلی گھر بنا کر اسے سمندر میں اتار دیا ہے۔ اس بجلی گھر کو "نیوکلیائی ٹائی ٹینک” کا نام دیا گیا ہے۔

70 میگاواٹ بجلی کی استعداد کار کے حامل اس تیرتے ہوئے بجلی گھر کا اصلی نام اکادمک لومونوسوف ہے۔ اور اسے بحیرہ بالٹک میں اتارا گیا ہے۔

تیرتے ایٹمی بجلی گھر پر مشتمل یہ جہاز روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے اپنا سفر شروع کرے گا۔ اور پھر ناروے کے گرد چکر کاٹتے ہوئے ایک اور روسی قصبے مرمانسک پر نیوکلیائی ایندھن حاصل کرنے کے لیے رکے گا۔

وہاں سے یہ جہاز قطب شمالی کی جانب سفر کرتا ہوا ایک لاکھ سے زائد آبادی کے شہر پیوک پہنچے گا۔ اور وہیں پر رک کر آبادی کے ساتھ ساتھ نمک ربائی اور تیل کھدائی کے پلانٹس کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

ایک حکومتی کمپنی کی زیرنگرانی تیار ہونے والے اس جہاز کو ابتدائی طور پر سینٹ پیٹرز برگ سے ہی نیوکلیائی ایندھن وغیرہ لینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ لیکن بالٹک ریاستوں کی جانب سے مخالفت اور مقدمہ بازی کو مدنظر رکھتے ہوئے فرم نے مرمانسک شہر سے ایندھن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی معیشت کا بڑا انحصار قطب شمالی میں موجود تیل کے ذخائر پر ہے۔ اسی لیے علاقے میں تیل کی کھدائی کے کئی پلانٹس لگائے گئے ہیں۔ لیکن دوردراز علاقے کی وجہ سے قطب شمالی میں موجود پلانٹس اور آبادی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے روس نے دنیا کا پہلا تیرتا ہوا ایٹمی بجلی گھر ” نیوکلیائی ٹائی ٹینک” تیار کیا ہے۔ تا کہ پلانٹس کے لیے توانائی کی ضروریات کماحقہ پوری کی جا سکیں۔