پاکستان نئی زیرسمندر 60 ٹیرا بائیٹس فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہو گا

2,030

پاکستانی انٹرنیٹ صارفین اکثر سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ ملک میں انٹرنیٹ بینڈوڈتھ کئی ہمسایہ ممالک سے کم ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اب پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی اس پریشانی کے دن ختم ہونے والے ہیں۔ کیونکہ ایک خبر کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان زیر سمندر تار Submarine Cable کے ایک بڑے نیٹورک کا حصہ بننے جا رہا ہے۔

معاہدے کے مطابق اس تار کو پاکستان کے شہروں کراچی اور گوادر سے منسلک کر کے براعظم افریقہ اور یورپ تک پھیلایا جائے گا۔

ہوواوے ٹیکنالوجیز اور ٹراپک سائنس کمپنی کی جانب سے زیر تکمیل اس مشترکہ منصوبے کی مدد سے پاکستان کو 60 ٹیرا بائیٹس گنجائش کی حامل زیر سمندر فائبر آپٹک تار کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ اس سلسلے میں تار پہلے ہی بچھائی جا چکی ہے جبکہ اسے سال 2019 کے اواخر تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔

اس منصوبے کو پیس PEACE یعنی Pak East Africa Cable Express (پاک-افریقہ تار ایکسپریس) منصوبے کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر پاکستان میں کام کرنے والی موبائل کمپنی جاز اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی سائبر نیٹ بطور شراکت کار کام کریں گے۔

پِیس منصوبے کے پہلے مرحلے میں پاکستانی شہروں گوادر اور کراچی کو 6200 کلومیٹر طویل تار کے ذریعے جبوتی، صومالیہ، کینیا سے منسلک کیا جائے گا۔ اور پھر وہاں سے بتدریج 13000 کلومیٹر طویل تار کے ذریعے جنوبی افریقہ اور مصر تک پھیلایا جائے گا۔

چینی کمپنی ٹروپک سائنس کی جانب سے ڈیزائن کردہ اس تار کا نظام "کثیف طول موج کی کثیر العناصر تقسیم” (مختصراً DWDM) ٹیکنالوجی پر منحصر ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں تار کے ایک ریشے میں مختلف طول موج کے ذریعے ڈیٹا کی ترسیل کی جاتی ہے۔ یوں کم جسامت کی تار بھی کئی گنا زیادہ گنجائش کی حامل ہو جاتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اس وقت چھ زیر سمندر فائبر آپٹک تاروں سے منسلک ہے۔ اس کے باوجود ملک میں اکثر مختلف وجوہات کی بناء پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی معطل ہو جاتی ہے۔ گزشتہ سال 2017 میں بھی دو زیرسمندر تاروں میں خلل آنے کے باعث پورے ملک میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی تھی۔ اور اسے بحال ہونے میں کئی دن لگے تھے۔

اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس نئی اور 60 ٹیرا بائیٹس جیسی وسیع گنجائش کی حامل بصری ریشے (فائبر آپٹک) کی تار سے منسلک ہونے کے بعد ملک میں نا صرف انٹرنیٹ کی فراہمی بلاتعطل جاری رہ سکے گی۔ بلکہ پاکستانی صارفین کئی گنا بہتر اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروس سے مستفید ہو سکیں گے۔