پینٹاگون کا خلائی مخلوق کا خفیہ پروگرام افشا

1,823

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ وہ خلائی اجسام کے تعاقب کا ایک پروگرام چلا رہی تھی تاہم یہ پروگرام 2012 کو دیگر زیادہ اہمیت کے منصوبوں پر توجہ دینے کے لیے بند کردیا گیا۔

ہفتے کو نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں اس خفیہ پروگرام کی موجودگی کے بارے میں انکشافات کیے تھے۔

میڈیا پر خبر کے افشا ہونے کے بعد پینٹاگون کے ترجمان نے رویٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایڈوانس خفیہ پروگرام The Advanced Aviation Threat Identification Program ایوی ایشن کے خطرات کا سامنے کرنے کے لیے وضع کیا گیا تھا جسے 2012 میں بند کردیا گیا تھا کیونکہ اس سے زیادہ اہمیت کے حامل منصوبے تھے جن پر سرمایہ لگانے کی ضرور تھی۔

اخبار کے مطابق یہ پروگرام 2007 کو شروع کیا گیا تھا جو 5 سال تک جاری رہا، اس پروگرام پر سالانہ 22 ملین ڈالر خرچ کیے جاتے تھے۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے ایسے تیز رفتار جہاز دریافت کیے گئے تھے جن میں حالیہ جہازوں اور راکٹوں کی طرح رفتار پکڑنے کے آلات نہیں پائے گئے اور جو ممکنہ طور پر انسان کے بنائے ہوئے نہیں تھے۔

ایسے جہازوں کو یو ایف او UFO کا نام دیا جاتا ہے۔

اس پروگرام سے صرف چند امریکی اعلی اہلکار ہی آگاہ تھے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے کچھ حصوں پر اب بھی آفیشل طور پر کام جاری رکھا گیا ہے۔