پلاسٹک کھانے والا خامرہ دریافت

995

نیشنل اکادمی برائے سائنس کے زیر نگرانی شائع ہونے والے سائنسی جریدے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق
سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک ایسا منقلب خامرہ Mutant Enzyme دریافت کر لیا ہے جو پلاسٹک کی بوتلوں کو بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔

یہ خامرہ حادثاتی طور پر اس وقت دریافت ہوا جب پروفیسر جان مکگیان کی سربراہی میں پورٹس ماوتھ یونیورسٹی کی ٹیم پلاسٹک کی بوتلوں کو پھر سے قابل استعمال بنانے والے پلانٹ پر تحقیق کر رہی تھی۔ وہاں انہوں نے مٹی میں چھپا ہوا ایک مخصوص بیکٹیریا دریافت کیا۔

مزید تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ جرثومہ/بیکٹیریا پلاسٹک کی ان بوتلوں کے تناول اور تحلیل کے لیے خودبخود نشونما پا رہا ہے جنہیں لوگ استعمال کے بعد کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پوری دنیا کے ماحولیاتی ماہرین پلاسٹک کی بوتلوں پر مشتمل فضلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ پلاسٹک کی ان بوتلوں کو ٹھکانے لگانا نہایت ہی مشکل ہے۔ یہ بوتلیں سالہاسال تک اپنی اصلی حالت میں پڑی رہتی ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ نیز ان کی وجہ سے سمندری اور دریائی مخلوق کے شدید متاثر ہونے کے باعث پورے ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔

برطانیہ کی پلاسٹک فیڈریشن کے مطابق PET یعنی پولی ایتھائلین ٹیرے فتھلیٹ (Polyethylene Terephthalate) بوتلوں میں مختلف اقسام کے جوس، منرل واٹر اور خصوصاً سوڈا واٹر پیک کئے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان مائعات کا 70 فی صد PET بوتلوں میں ہی پیک کیا جاتا ہے۔

گو کہ پلاسٹک کی یہ بوتلیں بار بار قابل استعمال ہیں۔ نیز یہ آہستہ آہستہ تحلیل بھی ہو جاتی ہیں۔ لیکن انہیں مکمل طور پر تحلیل ہونے میں بھی سینکڑوں سال درکار ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر بڑے یہ ماحولیاتی خطرات کا باعث بن رہی ہیں۔

یہ جرثومہ قدرتی طور پر ہی ان PET بوتلوں کو کھانے کے لیے پرورش پا رہا تھا۔ اور ایک قدرتی خامرے جسے PETase بھی کہا جاتا ہے کی مدد سے پلاسٹک بوتلوں کے اجزاء کو ہضم کرنے کا کام لے رہا تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق حیران کن طور پر اس بیکٹیریا میں مزید بہتری کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ جسے استعمال کرتے ہوئے اس میں موجود خامرے کو پلاسٹک کے اوریجنل اجزاء میں تقسیم کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔

یوں جہاں ایک طرف ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں مدد ملے گی وہیں دوسری طرف پلاسٹک کے تقسیم کردہ اجزاء سے ہی نئی بوتلیں وغیرہ بھی بنائی جا سکیں گی۔ جس سے معدنی وسائل کے ضیاع میں بھی کمی آئے گی۔