پولیس کے پاس چہرہ پہچاننے والے چشمے

1,121

چین میں ریلوے پولیس نے ایسے چشموں کا استعمال کردیا ہے جو چہرے پہچاننے (facial recognition) کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یعنی جو کچھ ہم فلموں میں دیکھتے آئے ہیں وہ اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔

چین کے وسطی صوبہ ہینان کے دارالحکومت چینگ چو میں ریلوے اسٹیشنوں پر پولیس اہلکاروں کو ان چشموں سے لیس کردیا گیا ہے جس سے وہ مشتبہ افراد کو فوری طور پر پہچان سکتے ہیں۔ یہ گوگل گلاس جیسا چشمہ لگتا ہے اور اب تک 7 مبینہ ملزمان کو پکڑنے میں مدد دے چکا ہے۔

یہ چشمے دراصل ایک ڈیٹابیس سے منسلک ہیں جو مشتبہ افراد اور مسافروں میں تقابل کرتے ہیں۔ یہ تو نہیں معلوم کہ عملی میدان میں یہ پہچاننے میں کتنا وقت لگاتا ہے لیکن یہ گلاس بنانے والی ایل ایل وژن ٹیکنالوجی کے سی ای او وو فی کا کہنا ہے کہ تجربے کے دوران اس نے 10 ہزار افراد کے ڈیٹابیس میں 100 ملی سیکنڈزمیں چہرے پہچان لیے۔

اب تک ٹریفک خلاف ورزی سے لے کر انسانی ٹریفکنگ تک مختلف جرائم میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں مدد دی ہے۔ اس کے علاوہ جعلی دستاویزات پر سفر کرنے والے افراد کو بھی روکا گیا۔ چین میں ریل گاڑی میں سفر کے لیے شناختی دستاویزات کا استعمال لازمی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ چین میں چہرے پہچاننے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے چشمے استعمال کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی چین ایسا سسٹم بنا رہا ہے جو صرف تین سیکنڈوں میں 1.3 ارب شہریوں کے ڈیٹابیس کو چھان سکتا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے اس ٹیکنالوجی کے خلاف آواز بلند کی ہے اور اسے انسان کی نجی زندگی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جلد یا بدیر یہ ٹیکنالوجی مستقبل ہے۔ ویسے اس ٹیکنالوجی کا آئندہ چند دنوں میں بڑا امتحان ہونے والا ہے کیونکہ چینی نئے سال کا آغاز قریب ہے۔ چین میں نئے سال کے دوران 389 ملین افراد کے بذریعہ ٹرین سفر کرنے کی توقع ہے۔