تابکاری کا خطرہ، فون کو جیب میں نہ رکھیں

1,334

کیلیفورنیا ڈپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ نے موبائل فونز کی تابکاری کے خطرات پر ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ جی ہاں! ان فونز کے بارے میں جن کے ہم عادی ہیں، جنہیں سینے سے لگا کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان کو اپنے پہلو میں رکھ کر سونے کے بھی عادی ہیں، وہ برق مقناطیسی تابکاری یعنی electromagnetic radiation کا اخراج کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا نے عوام کو تحفظ دینے کے لیے کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔

محکمہ صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام ان ڈیوائسز کا استعمال کم کریں اور ممکنہ حد تک ان سے فاصلہ رکھیں۔ ڈائریکٹر ڈاکٹر کیرن اسمتھ کا کہنا ہے کہ "گو کہ سائنس اب بھی اس پر غور کر رہی ہے، لیکن چند صحت کے ماہرین کو بڑے عرصے تک سیل فونز سے خارج ہونے والی توانائی کی زد میں رہنے پر خدشات ہیں۔”

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ایک عدالت کے حکام پر 2009ء کی ایک رپورٹ سے نتائج پیش کیے گئے۔ ایک سال قبل یو سی برکلی کے پروفیسر جوئیل ماسکووٹز نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ محکمہ صحت اپنے نتائج جاری کرے کہ آیا موبائل فون کا استعمال رسولی کے خطروں کو بڑھاتا ہے یا نہیں۔ دستاویز کا ابتدائی مسودہ مارچ میں کیا گیا تھا لیکن حتمی اجراء زیادہ جامع ہے۔

ماسکووٹز کا کہنا ہے کہ سیل فون بنانے والے چاہتے ہیں کہ آپ اپنے جسم سے فون کو کم از کم ایک فاصلے تک رکھیں اور اگر آپ اسے چپکا کر رکھیں گے تو آپ حفاظتی حدود کو توڑیں گے۔

محکمہ صحت تجویز کرتا ہے کہ فون کو جیب میں نہ رکھیں، اور بہت زیادہ دیر تک کان سے نہ لگائے رکھیں، اگر بیٹری کم ہو تو اس کا استعمال کم کردیں، رات کو اس کے قریب مت سوئیں اور تیزی سے حرکت کرتی کار، بس یا ٹرین میں ہوں تو ہوشیار رہیں، کیونکہ اس وقت فون کنکشن برقرار رکھنے کے لیے زیادہ توانائی خارج کرتا ہے۔

اس سے پہلے ریاست کنیکٹی کٹ کا محکمہ صحت بھی سیل فون کی تابکاری کے حوالے سے ایسے ہی خدشات ظاہر کر چکا ہے۔ ماسکووٹز کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات ظاہر کرتی ہے کہ سیل فون کی تابکاری صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔