ریم اور روم کو بھول جائیں، نئی ہائبرڈ میموری ایجاد

5,511

ہماری روزمرہ زندگی کے کھانوں میں نمک اور مرچ کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ دونوں کے ذائقے منفرد اور جداگانہ ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک کے نا ہونے سے کھانا ہی پھیکا پڑ جاتا ہے۔ بعینہ کمپیوٹر ورلڈ میں بھی عارضی میموری یعنی ریم RAM اور مستقل میموری یعنی ROM، دونوں کا جڑواں ساتھ نہایت ضروری ہوتا ہے۔ ایک کے بغیر دوسرے کا مقصد بھی ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔

پرانے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز سے لے کر جدید ترین اسمارٹ فونز تک سب کے ہارڈوئیرز میں ریم اور روم کا بہ یک وقت ہونا بہت ضروری ہے۔ بلکہ ان برقی آلات کی قیمتوں کے تعین میں بھی میموری کی ان دونوں اقسام کا بہت بڑا کردار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ میموری کی ان دونوں اقسام کو علحیدہ طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ اصل کام دونوں کا ایک ہی ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے ہمیں ان دونوں اقسام کا فرق سمجھنا ہو گا۔

ریم Random Access Memory یعنی "یادداشت برائے عارضی رسائی” کا مخفف ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس میموری کو عارضی طور پر ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ کمپیوٹر پراسیسر اس میموری کو انتہائی سرعت کے ساتھ ڈیٹا حاصل کرنے اور لکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ میموری آپریٹنگ سسٹم پر مختلف پروگرام یا ایپس کو ہمہ وقت چلانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

لیکن اس کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ یہ میموری برقی طاقت پر براہ راست کام کرتی ہے۔ یعنی جب تک نظام میں برقی طاقت رہتی ہے تب تک اس میموری میں بھی ڈیٹا جمع رہتا ہے۔ لیکن جونہی بجلی چلی جائے یا سسٹم کو بند کر دیا جائے تو ریم پر موجود تمام معلومات صاف ہو جاتی ہے۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ آپ ورڈ پراسیسر کی کسی دستاویز پر کام کر رہے ہو۔ یہ دستاویز محفوظ نا کی ہو اور اس دوران سسٹم بند ہو جائے تو آپ کا تمام کام رائیگاں جائے گا۔ اس مسئلے کا حل روم میموری میں پوشیدہ ہے۔

روم Read Only Memory یعنی "صرف پڑھی جانے والی یادداشت” کا مخفف ہے۔ نام سے قطع نظر اس میموری میں ڈیٹا کو مستقل طور پر لمبے عرصے کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے۔ گویا اگر بجلی وغیرہ چلی جائے یا حادثاتی طور پر سسٹم بند ہو جائے تب بھی اس میموری پر موجود معلومات محفوظ رہتی ہیں۔ نیز آپریٹنگ سسٹم کی تمام معلومات اس میں موجود ہونے کی وجہ سے یہ سسٹم کو بُوٹ بھی کرتی ہے۔

اس میموری کا بھی فائدے کے ساتھ ساتھ ایک نقصان دہ پہلو ہے اور وہ یہ کہ اس سے ڈیٹا اتنی تیز رفتاری سے حاصل نہیں کیا جا سکتا جتنا ریم سے کیا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ نسبتاً سست رفتار میموری ہے۔

جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ ریم اور روم یا مستقل و عارضی یادداشت دونوں کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ ان خامیوں کو ختم کرنے اور خوبیوں کو یکساں طور پر حاصل کرنے کے لیے دونوں اقسام کی یادداشت کو بہ یک وقت استعمال کیا جاتا ہے۔ تا کہ تیز رفتاری کا عنصر بھی قائم رہے اور ڈیٹا بھی لمبے عرصے تک کے لیے قابل استعمال رہ سکے۔ لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ دونوں کے بہ یک وقت استعمال سے نا صرف ہارڈوئیر زیادہ جگہ گھیرتا ہے بلکہ سسٹم کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سائنسدان ایک تیسری قسم کی میموری کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ریم اور روم کی تمام جملہ خوبیوں سے مالامال ہو۔ ان کوششوں کو حال ہی میں ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔

شنگھائی کی فیوڈان یونیورسٹی سے منسلک سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد میموری کی ایک ایسی قسم ایجاد کی ہے جو کہ بہ یک وقت عارضی اور مستقل یادداشت کا کام سرانجام دے گی۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کام کرے گی۔ اس تحقیق کو مشہور سائنسی جریدے نیچر کے شعبہ نینوٹیکنالوجی کے تحت شائع کیا گیا ہے۔

میموری کی یہ نئی قسم ایک نیم سچل گیٹ Semi floating gate ٹیکنالوجی پر مشتمل ہو گی۔ اور اپنے مشترکہ خواص کی بناء پر مستحکم اور غیر مستحکم یعنی Volatile and Non-Volatile دونوں حالتوں میں کام کرے گی۔ نیز اس پر ڈیٹا عام دو جہتی میموری کی بہ نسبت ایک لاکھ گنا زیادہ تیزی کے ساتھ لکھا جا سکے گا۔ نا صرف یہ بلکہ اس میموری پر ڈیٹا اسٹور کرتے وقت آپ یہ فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ یہ ڈیٹا کب تک محفوظ رہے گا۔ مقررہ وقت کے بعد میموری سے ڈیٹا خودبخود صاف ہو جائے گا۔ تا کہ نیا ڈیٹا تحریر کیا جا سکے۔

ان خصوصیات کی بناء پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ میموری کی یہ نئی ہائبرڈ قسم جلد ہی عارضی اور مستقل یادداشت یعنی ریم اور روم کی جگہ لے لے گی۔ تاہم سائنسدانوں نے فی الحال یہ واضح نہیں کیا کہ یہ میموری کب تک عملی طور پر قابل استعمال ہو گی۔ البتہ امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہی یہ اسے کمپیوٹر اور اسمارٹ فونز کے ہارڈوئیر میں استعمال کیا جانے لگے گا۔