سیٹیلائٹ انٹرنیٹ، اسپیس ایکس کا خواب حقیقت کے قریب

1,514

اسپیس ایکس سیٹیلائٹ کے ذریعے براڈبینڈ رسائی کی جانب ایک قدم آگے بڑھا چکا ہے کیونکہ اس کے فیلکن 9 راکٹ نے دو اسٹار لنک ڈیمو سیٹیلائٹس زمین کے زیریں مدار میں پہنچا دیے ہیں۔

ادارہ عرصے سے اس پر کام کررہا تھا اور اب دونوں اسٹار لنک سیٹیلائٹس اسے زمین پر انٹرنیٹ بیم کرنے کے اپنے نظام کی جانچ کا موقع دیں گے جس کے بعد وہ اسے عملی طور پر پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔

روایتی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہیں اور سست بھی ہوسکتی ہیں، جس کی وجہ ہے جیو اسٹیشنری سیٹیلائٹس کے کام کرنے کا انداز۔ لیکن ہزاروں ننھے سیٹیلائٹس کے جھرمٹ کے ذریعے اسپیس ایکس درمیانی فاصلے کے مسائل پر قابو پا سکتا ہے، اور امید ہے کہ ایک تیز رفتار اور زیادہ سستی سروس فراہم کر سکتا ہے۔

اسپیس ایکس کا منصوبہ ہے کہ وہ 2019ء سے 2024ء کے درمیان مدار میں ہزاروں ایسے سیٹیلائٹس بھیجے گا تاکہ اپنی سروس سے ملنے والی آمدنی کو اپنے مریخ مشن کے لیے استعمال کر سکے۔ تو کیا 2018ء ادارے کے سی ای او ایلون مسک کے لیے ایک اچھا سال ثابت ہونے جا رہا ہے؟