سیلف ڈرائیونگ کار نے خاتون کو کچل دیا

781

امریکی ریاست ایریزونا میں اوبر کی ایک خودکار گاڑی نے عورت کوٹکر مار دی۔ یوں تاریخ میں پہلی بار سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی سے لیس کسی گاڑی کے ہاتھوں پہلی موت واقع ہوئی ہے۔ واقعہ ٹمپے شہر میں پیش آیا، جس کے بعد اوبر نے ٹمپے کے ساتھ ساتھ پٹس برگ، سان فرانسسکو اور ٹورنٹو میں اپنے تجربات فوری طور پر روک دیے ہیں۔ یہ حادثہ ثابت کرتا ہے کہ سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اب بھی آزمائشی مرحلے میں ہے اور حکومتوں کو اسے ضابطے میں لانے کے لیے ابھی کافی کام کرنا ہے۔

اوبر اور ویمو کے علاوہ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور گاڑیاں بنانے والے اداروں کی ایک طویل فہرست ہے جو امریکا کے مختلف شہروں میں سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے تجربات کر رہے ہیں۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں انسان کے ہاتھوں چلائی جانے والی گاڑیوں سے زیادہ محفوظ ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی کو منظر عام پر آئے ہوئے ابھی صرف ایک دہائی ہی گزری ہے اور اس نے ان غیر یقینی حالات کا سامنا کرنا ابھی شروع ہی کیا ہے جو ڈرائیور کو پیش آ سکتے ہیں۔

اس وقت زیادہ تر امریکی ریاستوں میں ایسی گاڑیوں کی جانچ محدود ماحول کے اندر ہو رہی ہے لیکن ایریزونا وہ ریاست ہے جس نے سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں کے لیے کشش پیدا کرنے کی خاطر کچھ آزادی دی تھی۔ ریاست نے اداروں کو ڈرائیور کے بغیر گاڑی چلانے کی بھی اجازت دی تھی، یعنی ہنگامی حالت کے لیے کسی انسان کو بٹھائے بغیر بھی سیلف ڈرائیونگ کار چلائی جا سکتی ہے۔ یہ سہولت تو پڑوسی ریاست کیلیفورنیا میں بھی موجود نہیں۔

افسوسناک حادثے کا باعث بننے والی اوبر کی سیلف ڈرائیونگ گاڑی

بہرحال، تازہ ترین حادثے کا باعث بننے والی اوبر ایک وولو XC90 اسپورٹ کار تھی، جس میں ادارے کا سینسنگ سسٹم لگایا گیا تھا۔ یہ حادثے کے وقت سیلف ڈرائیونگ موڈ میں تھی، البتہ ڈرائیور نشست پر موجود تھا ۔ واقعہ اتوار کی شب 10 بجے پیش آیا، جب یہ گاڑی 49 سالہ ایلین ہرزبرگ سے ٹکرائی، جو اپنی سائیکل پر جا رہی تھیں۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق گاڑی اس وقت 40 میل فی گھنٹے کی رفتار سے جا رہی تھی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کوئی علامت ظاہر نہیں کہ حادثے سے قبل گاڑی نے رفتار میں کوئی کمی کی ہو، اور نہ ہی ڈرائیور نے حادثے سے پہلے گاڑی میں کسی قسم کی کوئی خامی پائی۔

ویسے سیفٹی ڈرائیور رکھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو وہ فوری طور پر گاڑی اپنے ہاتھ میں لے سکے، گو کہ یہ بڑا مشکل کام ہے کہ پوری رفتار سے جانے والی گاڑی کو ایک لمحے میں قابو میں کرنا پڑتا ہے۔

لیکن اب تک سیلف ڈرائیونگ کاروں کا نتیجہ بہت اچھا رہا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق کیلیفورنیا میں دسمبر 2016ء سے نومبر 2017ء کے دوران صرف ویمو کی سیلف ڈرائیونگ کاروں نے ساڑھے تین لاکھ میل کا سفر کیا اور اس دوران صرف 63 مواقع ایسے آئے جب کنٹرول انسانی ڈرائیور نے سنبھالا ہو یعنی اوسطاً 5600 میل کے سفر کے بعد۔

آخری بار کوئی ایسا حادثہ 2016ء میں پیش آیا تھا جب امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک شخص اپنی ٹیسلا کار آٹو پائلٹ پر چلا رہا تھا اور وہ پوری رفتار سے سڑک پر جانے والی ٹریکٹر ٹرالی سے جا ٹکرائی تھی۔ نتیجے میں اس شخص کی موت واقع ہوگئی تھی۔