سم کارڈ کا جلد خاتمہ ہوجائے گا

3,334

جب اسمارٹ فون جیسی انتہائی پیچیدہ الیکٹرونک ڈیوائس بنائی جاتی ہے تو اس میں سم کارڈ جیسی بہت چھوٹی چیز بھی بہت زیادہ جگہ گھیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سم کارڈ کی جگہ ہارڈویئر بنانے والوں کے لیے عرصے سے پریشانی کا سبب ہے۔ لیکن اب معروف چپ ڈیزائن کمپنی ARM اس مسئلے کا حل ڈھونڈچکی ہے، اس نے iSIM نامی ایک چیز بنائی ہے جو پروسیسر ہی کی طرح چپ میں شامل کی جا سکتی ہے۔

اے آر ایم کہتا ہے کہ آئی سم مربع ملی میٹرکا معمولی سا حصہ گھیرے گی جبکہ موجودہ سم، جیسا کہ نینو سمز 12.3 ضرب 8.8 مربع ملی میٹر کی ہوتی ہیں اور اس میں وہ ہارڈویئر بھی شامل نہیں ہے جس میں یہ سم نصب ہوتی ہے۔ یعنی اے آر ایم کی جدّت نہ صرف جگہ بچائے گی بلکہ ادارے کے الفاظ میں اس سے پیسوں کی بھی بچت ہوگی۔ ہر کارڈ پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے ادارے معمولی لاگت پر ہی کام چلا لیں گے۔

پھر بھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سم کارڈز جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔ دراصل یہ ٹیکنالوجی چھوٹی انٹرنیٹ آف تھنگز کے لیے بنائی گئی تھی جیسا کہ وائرلیس سینسر جنہیں اپنے نتائج پیش کرنے کے لیے سیلولر سروس کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہرحال، اے آر ایم کا ہدف ان مصنوعات کی لاگت کو ممکنہ حد تک کم سے کم کرنا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا موبائل فون کیریئرز اس نئی ٹیکنالوجی کو قبول کریں گے؟ فون بنانے والوں کے پاس پہلے ہی نینو سم کا متبادل موجود ہے، 6 ضرب 5 ملی میٹر کی یہ eSIM کہلانے والی سم آہستہ آہستہ مقبول ہو رہی ہے۔ حال ہی میں گوگل کے جدید ترین پکسل فون کے ساتھ ساتھ کئی ٹیبلٹس اور ویئریبلز میں یہ سہولت موجود ہے۔ یعنی بہت جلد یہ کافی مقبولیت حاصل کرلیں گی۔

البتہ اے آر ایم کا کہنا ہے کہ ان کی جدید آئی سمز کیریئرز میں جلد مقبول ہوں گی۔ وہ اس کے لیے ضروری معیارات پر پورا اترنے کا کام کر رہے ہیں۔