اسمارٹ سٹی دبئی میں ایک نئی جدت

1,012

دبئی ایک اہم عالمی تجارتی و سیاحتی مرکز بن چکا ہے اور یہی نہیں وہ "اسمارٹ شہر” بھی ہے۔ کوئی بھی جدّت ہو اسے اپنانے میں دبئی پیش پیش رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب ہمیں یہاں خودکار طور پر چلنے والی گاڑیاں بھی نظر آ رہی ہیں۔

دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے دو ایسی گاڑیوں کی رونمائی کی ہے جو امریکا میں قائم ادارے نیکسٹ ٹرانسپورٹ کمپنی نے بنائی ہیں۔ یہ گاڑیاں دبئی کی ایک مرکزی سڑک پر چلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں ، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے گاڑیوں پر مزید تحقیق اور انہیں بہتر بنانے کے لیے 4 لاکھ ڈالرز سے زیادہ لگائے ہیں، جس کے بعد امید ہے کہ دبئی 2030ء تک شہر میں مقامی ٹرانسپورٹ میں ان خودکار گاڑیوں کا حصہ 25 فیصد ہو جائے گا۔ آر ٹی اے میں آٹومیٹڈ کلیکشن سسٹم کے ڈائریکٹر خالد الاوضی نے کہا کہ پہلا ہدف دو تجرباتی گاڑیاں بنانا تھا اور اب ان پر تجربات کا مقصد گاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ گو کہ انہوں نے منصوبےکی تفصیلات اور لاگت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ یہ ضرور کہا کہ ایسے ہی چند دیگر منصوبے بھی ہیں جیسا کہ سیلف ڈرائیونگ بسیں اور میرین ٹرانسپورٹیشن سسٹم۔

آر ٹی اے کہتا ہے کہ یہ خودکار گاڑیاں پہلے چند سال طے شدہ راستوں پر چلیں گی، جس کے بعد آخرکار انہیں موبائل ٹیلی فون ایپلی کیشن کے ذریعے گھر سے سواری اٹھانے کے لیے بھی تیار کیا جائے گا۔ اس سروس کے آغاز کے لیے کوئی وقت نہیں بتایا گیا۔

بجلی سے چلنے والی یہ گاڑیاں 80 کلومیٹر فی گھنٹے تک کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ دبئی "فلائنگ ٹیکسی” اور "ہائپر لوپ” جیسے عظیم منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔