اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال، ایک ناخوش نسل کو جنم دیتا ہوا

955

والدین کے لیے یہ حیران کن بات نہیں ہوگی کہ اسمارٹ فون کا استعمال جیسے جیسے بڑھتا جا رہا ہے نوجوان نسل کی زندگی سے خوشیاں غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ اب ایک نئی تحقیق اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ سوشل میڈیا، گیمنگ، ٹیکسٹنگ اور وڈیو چیٹنگ پر زیادہ وقت گزارنے والے طلبہ ان ساتھیوں کے مقابلے میں بہت افسردہ زندگی گزارتے ہیں جو گھر سے باہر جاتے ہیں، کھیلتے ہیں، کودتے ہیں اور اپنے دوستوں اور احباب سے میل ملاقاتیں کرتے ہیں۔

سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق نفسیات کی پروفیسر ژاں ٹوینج نے کی ہے جن کا کہنا ہے کہ نئی نسل کی ناخوشی میں سب سے نمایاں کردار فون کا ہے۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال سے اجتناب اس مسئلے کا حل ہوگا؟ کیونکہ ٹوینج ہی کی اور تحقیق میں ایسی نوعمر لڑکیوں میں ڈپریشن یعنی ذہنی تناؤ اور خودکشی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو فون کا زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ یہ تحقیق یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن جیسے مؤقر ادارے کی جانب سے کی گئی۔ یہ خطرناک رحجان کی عکاسی کرتا ہے بالخصوص اس پہلو کو دیکھتے ہوئے کہ آجکل کس عمر میں بچوں کو اسمارٹ فون پکڑایا جا رہا ہے، 2012ء میں فون استعمال کرنے والے بچوں کی اوسط عمر 12 سال تھی تو 2016ء میں یہ گرتے گرتے 10 سال تک جا پہنچی۔

ٹوینج 90ء کی دہائی کے اوائل سے نوعمر افراد کے رویے پر تحقیق کر رہی ہیں اور اسمارٹ فون کے استعمال سے نوعمر افراد کے رویے اور جذباتی حالات میں آنے والی تبدیلی ہونے والی تحقیق میں پیش پیش رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2012ء سے بہت ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، اب بہت کم عمر کے بچے بھی اسکرین پر کافی وقت گزار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کم عمری میں ہی زندگی سے سکون غائب، خود اعتمادی مفقود اور بیزاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ٹوینج کی پرانی تحقیق بتاتی ہیں کہ جو بچے دن میں کم از کم چار، پانچ گھنٹے گزارتے ہیں، ان میں خودکشی کے رحجان میں 71 فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے، چاہے وہ بلّیوں کی مزاحیہ وڈیوز ہی کیوں نہ دیکھتے ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ "2012ء اور 2016ء کے درمیان نوعمر افراد کی زندگی میں سب سے بڑی جو تبدیلی آئی ہے وہ ان کا ڈیجیٹل میڈیا پر گزارا گیا وقت ہے، اور اس کے نتیجے میں ان کی سماجی سرگرمیاں اور نیند بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال اور خوشی کا باہمی تعلق یہی ہے کہ اس کا کم سے کم استعمال کیا جائے۔” انہوں نے تجویز کی کہ نو عمر افراد دن میں دو گھنٹے سے زیادہ ڈیجیٹل میڈیا استعمال نہ کریں، ورزش زیادہ کریں اور دوستوں سے روبرو ملاقاتیں کریں، اس سے انہیں خوشی حاصل ہوگی۔