اسمارٹ فونز جو مارکیٹ میں مکمل طور پر ناکام ہوئے

4,521

جب بھی کوئی ادارہ اپنے فون کا نیا ماڈل جاری کرتا ہے تو اس کو بنانے والے اپنی دانست میں بہتر سے بہترین کی کوشش کرتے ہیں۔ جدتوں کے ساتھ، خوبصورت ڈیزائن، کیمرے کی نئی صلاحیتوں، درجنوں خصوصیات کے ساتھ کئی اسمارٹ فونز مارکیٹ میں آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ ہی عوامی مقبولیت پر پورا اترتے ہیں اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو گمنامی کے اندھیروں میں چلے جاتے ہیں۔

آئیے آپ کو چند ایسے اسمارٹ فونز کے بارے میں بتاتے ہیں جو توقعات کے برعکس مارکیٹ میں بری طرح ناکام ہوئے۔

نوکیا لومیا:


پرسنل کمپیوٹرز میں تو مائیکروسافٹ کے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کا کوئی مقابل نہیں لیکن اسمارٹ فونز میں ایسا نہیں ہو پایا۔ ونڈوز موبائل آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ جاری ہونے والا نوکیا لومیا فون بری طرح ناکام ہوا۔ ادارے نے اپنا پہلا ونڈوز فون 2011ء میں جاری کیا تھا۔ یہ مائیکروسافٹ اور نوکیا کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ تھا۔ ناکامی کی بڑی وجہ ٹائلز پر مبنی نظام تھا جو اسمارٹ فون پر تو کام کرتا نظر نہیں آیا اور صارفین کی توجہ حاصل نہ کر سکا۔ پھر جب معاملہ ایپس کا ہو تو مائیکروسافٹ اسٹور بھی گوگل کے پلے اسٹور اور ایپل کے ایپ اسٹور سے بہت پیچھے دکھائی دیا۔


بلیک بیری کی ون:


بلیک بیری کی ون ایک ٹچ اسکرین بیسڈ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون تھا کہ جس کے ساتھ QWERTY کی بورڈ بھی تھا۔ اسے بلیک بیری موبائل کے تحت TCL کارپوریشن نے تیار کیا۔ ادارے نے محنت تو بڑی کی اور 2017ء میں بلیک بیری کی ون جاری کیا لیکن اپنے ہی آپریٹنگ سسٹم کو چھوڑنا اور صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اینڈرائیڈ کار خ کرنا بھی کام نہ آیا اور یہ فون مارکیٹ میں بری طرح پٹ گیا۔


سونی ایکسپیریا XA1 الٹرا:


سونی نے اپنی ایکسپیریا سیریز میں کئی حیرت انگیز اسمارٹ فونز پیش کیے ہیں۔ سونی ایکسپیریا XA1 الٹرا ان میں سے ایک فون ہے جو صارفین کو متاثر نہیں کر سکا اور بری طرح ناکام ہوا۔ اس کی ناکامی کی وجہ تھی ضروری اور بنیادی خصوصیات کی کمی اور نچلے درجے کے اسمارٹ فونز جیسی صلاحیت۔ یعنی فیچرز کے مقابلے میں قیمت کہیں زیادہ تھی۔ بلاشبہ اس کی کیمرا صلاحیتیں بہت اچھی تھی لیکن پروسیسر اوسط درجے کا تھا اور فنگر پرنٹ سینسر بھی نہیں۔


ایمیزن فائر فون:


ای-کامرس کی دنیا کے بڑے نام ایمیزن نے موبائل فونز کے کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالنے کا منصوبہ بنایا اور مارکیٹ میں اپنا اسمارٹ فون متعارف کروایا۔ یہ تھا فائر فون، جو 5 مختلف کیمروں اور ایک 3ڈی ڈسپلے کے ساتھ آیا تھا۔اس میں سب کچھ تھا، سوائے اس کے کہ جو بہت ضروری ہوتا ہے، یعنی گوگل پلے اسٹور کی عدم موجودگی۔ اہم ایپلی کیشنز تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس فون کی طلب توقعات پر پورا نہ اتر سکی اور اب یہ گمنامی کے دن گزار رہا ہے۔


ایچ ٹی سی یو الٹرا:


ایچ ٹی سی نے فروری 2017ء میں ایچ ٹی سی یو الٹرا جاری کیا۔ یہ اینڈرائیڈ 7.0 نیوگیٹ کا حامل اسمارٹ فون ہے جو بہت زیادہ صارفین کی توجہ حاصل نہیں کر پایا اور اپنے اجراء کے بعد سے ہی ابھر نہیں پایا۔ کمپنی نے اس کی قیمت 330 ڈالرز رکھی تھی لیکن اس رینج میں یہ ایک عام فون ہی سمجھا گیا۔ کمپنی نے کامیاب نہ ہونے پر قیمت کم کرنے کا بھی فیصلہ کیا لیکن پھر بھی اس کی طلب میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔


سام سنگ گلیکسی بیم


سام سنگ اسمارٹ فونز کی دنیا کا قابل اعتماد نام ہے اور بہت مناسب قیمت پر مضبوط اور شاندار خصوصیات رکھنے والے فون پیش کرنے کی شہرت رکھتا ہے۔ لیکن سام سنگ گلیکسی بیم اس کے ناکام ترین موبائل فونز میں سے ایک ہے۔ ایک تو کمپنی نے اینڈرائیڈ کا ایسا ورژن پیش کیا جو پہلے ہی پرانا ہو چکا تھا، اوپر سے پیش کردہ فیچرز قیمت کے مقابلے میں کہیں کم تھے۔ اس کے باوجود کمپنی نے بیم پروجیکٹ کا خاتمہ نہیں کیا اور 2014ء میں بیم کی دوسری سیریز جاری کی جس کا ہدف شمالی امریکا کے بجائے چین کی مارکیٹ تھی اور یہاں بھی گلیکسی بیم بری طرح ناکام ہوا۔


ایل جی G5


ایل جی نت نئے تجربات پر یقین رکھتا ہے اور اس نے گزشتہ چند سالوں میں بڑی جدتیں دکھائی ہیں لیکن 2016ء کے اوائل میں جاری کردہ جی5 ناکام فون رہا۔ ایسا لگتا تھا کہ کمپنی نے فون میں نت نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے بجائے قیمت پر زیادہ دھیان دیا، جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلا۔ ایل جی نے 2016ء کے اواخر میں 400 ملین ڈالرز کا خسارہ برداشت کیا۔

آپ کے خیال میں ناکام ترین فونز کی فہرست میں اور کس کا نام آ سکتا ہے؟