یوگینڈا میں سوشل میڈیا ٹیکس لگا دیا گیا، روزانہ 3 روپے دینا ہوں گے

1,137

یوگینڈا نے ملک بھر میں سوشل میڈیا ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے جو جولائی 2018ء سے نافذ العمل ہوگا۔ افریقی ملک کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس قومی آمدنی کے نظام کو بہتر بنائے گا۔

وزیر خزانہ ماتیا کاسائیا نے کہا ہے کہ اس ٹیکس سے ملک میں سکیورٹی نظام کو بہتر بنانے اور سوشل میڈیا کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے درکار بجلی بنانے میں مدد ملے گی۔ ان دونوں کاموں کے لیے حکومت آمدنی کے ذرائع تلاش کر رہی تھی اور یہ ایک اہم ذریعہ بنے گا۔

یہ وہی ملک ہے جس نے اس سے پہلے اپنا قومی سطح پر تیار کردہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم لانے کا اعلان کیا تھا لیکن ایسے تمام دھماکا خیز اعلان، محض اعلانات ہی رہے، حقیقت کا روپ کوئی نہ دھار سکا۔ پھر بھی لگتا ہے کہ سوشل میڈیا ٹیکس کے معاملے میں ایسا نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے اب تک اٹھائے گئے تمام اقدامات عملی روپ دھار رہے ہیں گو کہ یہ جاننا مشکل ہوگا کہ ملک بھر میں وہ صارفین کون سے ہیں جن کے موبائل فونز پر سوشل میڈیا ایپس موجود ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس ہر موبائل صارف پر لگایا جائے گا جو واٹس ایپ، ٹوئٹر اور فیس بک جیسی ایپلی کیشنز استعمال کرتا ہے۔ یہ 200 شلنگز روزانہ ہوگا یعنی پاکستانی 3 روپے سے زیادہ۔ ماہانہ یہ لگ بھگ 100 روپے بنتے ہیں۔ جو خاصی رقم ہے، خاص طور پر اگر افریقہ کے ترقی پذیر ملک کے تناظر میں دیکھا جائے تو۔

بہرحال، اس معاملے میں سب سے پیچیدہ کام ہے ٹیکس جمع کرنا اور اس کا طریقہ کار بنانا کہ آخر کس طرح 23.6 ملین صارفین کے موبائل فونز پر انسٹال ہونے والی تمام ایپس کو مانیٹر کیا جائے گا؟

ویسے یہ اعلان ہرگز حیران کن نہیں ہے کیونکہ یوگینڈا نے پچھلے انتخابات میں سوشل میڈیا کو مکمل طور پر بند کردیا تھا اور اس کے بعد ہی موجودہ صدر نے اشارہ دیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلانے کی حوصلہ شکنی کے لیے ٹیکس متعارف کروائیں گے۔

یہ آزادی اظہار رائے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ایک اور افریقی ملک تنزانیہ کے اقدامات کے بعد دوسرا بدترین قدم ہے۔ تنزانیہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا اور بلاگنگ کے حوالے سے قانون سازی کی ہے کہ جس کے مطابق آن لائن کونٹینٹ بنانے والوں کو رجسٹریشن اور لائسنس فیس کی مد میں 900 ڈالرز کی بھاری رقم ادا کرنا ہوگی۔