خلائی سیاحت کا آغاز بہت جلد

3,320

عام انسانوں کے لیے زمین کے مدار کی سیر بہت جلد ممکن ہو سکتی ہے کیونکہ ورجن گیلیکٹک نے آئندہ چند سالوں میں اٹلی کے ایک اسپیس پورٹ سے ان پروازوں کے آغاز کا معاہدہ کرلیا ہے۔

اٹلی کی معروف نجی اسپیس کمپنی SITAEL اور ALTEC نے ملک کے جنوبی صوبے گروتاگلی میں ایک اسپیس پورٹ کی تعمیر کے منصوبے کا خاکہ بنایا ہے۔ یہ دونوں ادارے اطالوی اسپیس ایجنسی اور تھیلس الینیا اسپیس کی ملکیت ہے اور سرکاری و نجی دونوں بنیادوں پر چلتے ہیں۔

خلائی سفر کے لیے لانچنگ کی تنصیبات فراہم کرنے کے علاوہ یہ اسپیس پورٹ اطالوی اسپیس ایجنسی کو خلائی تحقیق کے لیے ایک سائنسی پلیٹ فارم بھی مہیا کرے گا۔

ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برینسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تعاون سائنس و صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا اور لاکھوں افراد کا خلائی خود تجربہ اٹھانے کا خواب پورا کرے گا۔

ورجن گیلیکٹک نے حال ہی میں اپنے جدید ترین اسپیس شپ ٹو ہوائی جہاز کی راکٹ کے ذریعے تجرباتی پرواز کامیابی سے مکمل کی ہے۔ یہ جہاز VSS یونٹی کہلاتا ہے اور اس میں عملے کے دو اراکین اور چھ مسافر پرواز کر سکتے ہیں۔ یہ ان سیاحوں کو زمین سے 62 میل اوپر لے جا سکتا ہے۔

حالیہ تجربات کے بعد ورجن گیلیکٹک نیو میکسیکو، امریکا میں واقع اپنے موجود اسپیس پورٹ امریکا سے سیاحوں کے لیے پہلی کمرشل پرواز شروع کر سکتا ہے۔ ادارے کے سی ای او جارج وائٹ سائیڈز نے امریکی و اطالوی اسپیس پورٹس کے درمیان "تیز رفتار بین البراعظمی سفر” کا خیال تک پیش کیا ہے۔

ورجن گیلیکٹک نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ اگلے 12 ماہ میں زمین کے زیریں مدار تک خلائی سفر شروع کر سکتا ہے۔ 700 افراد پہلے ہی اپنی سیٹیں بک کروا چکے ہیں جبکہ ہر ٹکٹ ڈھائی لاکھ ڈالرز کا ہے۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ خواہشمندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مطلب ہے کہ آج ٹکٹ لینے کے خواہشمند کو جہاز پر بیٹھنے کے لیے کم از کم 2021ء تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔