اسپیس ایکس کے راکٹ نے کیمرے کا یہ حال کردیا

2,508

22 مئی کو اسپیس ایکس کے ایک راکٹ کی لانچنگ نے ایک انتہائی مہنگے کیمرے کا حلیہ بگاڑ دیا اور اسے ہمیشہ کے لیے خراب کردیا۔ ناسا نے اس واقعے کی تفصیلات اب بیان کی ہیں۔

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے کے فوٹوگرافر بل انگیلس ان افراد میں شامل تھے جنہیں اس روز لانچ کی تصویر کشی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ لیکن وہ اپنے 30 سال کے تجربے کے باوجود اس کیمرے کو نہیں بچا سکے۔

"مرحوم” کینن کا ایک مہنگا ڈی ایس ایل آر ماڈل کیمرا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ انگیلس کو ایسی فوٹوگرافی کا کچھ پتہ نہیں تھا بلکہ انہوں نے اسی مقام سے شوٹنگ کی جہاں وہ پہلے بھی کر چکے تھے۔ انہوں نے متعدد زاویوں پر کیمرے لگائے تھے اور یہ کیمرا تو لانچ پیڈ سے سب سے زیادہ دور تھا۔ تو آخر ایسا کیا ہوا کہ یہ پگھل گیا؟

انگیلس نے بتایا کہ میرے پاس چھ ریموٹ تھے، دو لانچ پیڈ کی حدود سے باہر اور چار اندر۔ دراصل لانچنگ کے بعد اس کیمرے کے گرد موجود گھاس نے آگ پکڑ لی تھی، جس ایک کیمرا جل گیا۔ یعنی اس کیمرے کے "قتل” کی تمام تر ذمہ داری اس گھاس کو جاتی ہے۔

جب اس کیمرے کی "لاش” ملی تو حیران کن طور پر اس کا میموری کارڈ بالکل درست حالت میں موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زندگی کے "آخری لمحات” ہمارے سامنے آئے۔ اب یہ تو نہیں پتہ کہ اس خراب کیمرے کے ساتھ کیا کیا جائے گا لیکن انگیلس تجویز کرتے ہیں کہ یہ ممکنہ طور پر واشنگٹن ڈی سی میں ناسا کے صدر دفاتر میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔