تمام نیوکلیئر دھماکوں کے تجربات دیکھیں، ایک ہی جگہ

1,211

امریکا نے کسی بھی دوسرے ملک سے زيادہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں۔ ان کی سرکاری تعداد 1054 ہے جن میں سے 210 کھلی فضاء میں کیے گئے۔ 1945ء سے 1962ء کے درمیان کیے گئے یہ تمام تجربات کیمروں پر ریکارڈ کیے گئے تھے اور اس ہفتے لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری کی ایک ٹیم ان میں سے 62 تجربات کی وڈیوز یوٹیوب ڈال چکی ہے۔ ایسی کل 10 ہزار وڈیوز ہیں جو دہائیوں گوداموں میں سڑ رہی تھیں لیکن لیبارٹری کے ایک رکن نے فلم ماہرین اور سافٹویئر ڈیولپرز کے ساتھ مل کر ان فلموں کی بحالی پر کام کیا تاکہ انہیں عوام کے لیے پیش کیا جا سکے، قبل اس کے کہ یہ فلمیں گردش زمانہ کی نذر ہو جائیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں اس ٹیم نے ساڑھے چھ ہزار وڈیوز حاصل کیں اور آہستہ آہستہ انہیں بحال کر رہے ہیں۔ اب تک وہ 4200 فلموں کو اسکین کر چکے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی وڈیوز کا دوسرا سلسلہ ہے۔ اس سے قبل مارچ میں بھی ایسی وڈیوز کی پہلی سیریز جاری کی گئی تھی۔

لیبارٹری نے اپنے یوٹیوب چینل پر اب تک 125 نیوکلیئر تجربات کی وڈیوز پیش کی ہیں۔ دراصل یہ وڈیوز محض عام افراد کے دیکھنے کے لیے ہی نہیں ماہرین کے لیے بھی مددگار ہوں گي جو ورچوئل نیوکلیئر ٹیسٹنگ کے خواہشمند ہیں۔ امریکا نے 1992ء سے اب تک کوئی نیوکلیئر دھماکا نہیں کیااس لیے simulation ہی بہترین آپشن ہے۔

امریکا نے نیوکلیئر تجربات کا مکمل دستاویزی ریکارڈ مرتب کیا تھا۔ ہر دھماکے کو 50 سے زیادہ کیمروں کے ذریعے، ہر زاویے سے فلمایا گیا تھا بلکہ 2400 فریمز فی سیکنڈ کے حساب سے بھی ریکارڈنگ کی گئی تھی۔

کیونکہ جوہری تجربات ماحولیات پر بدترین اثرات رکھتے ہیں، اس لیے اب ایسے تجربے نہیں کیے جا رہے لیکن ورچوئل تجربات کے لیے دہائیاں پہلے کیے جانے والے ان تجربوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔