ٹیلی گرام ایپل کے ایپ اسٹور سے باہر

773

ٹیلی گرام اور ادارے کی نئی ایپ ٹیلی گرام ایکس دونوں کو ایپل کے ایپ اسٹور نے باہر نکال دیا ہے۔ البتہ ٹیلی گرام کا کہنا ہے کہ ایپ اتفاقیہ طور پر خارج کی گئی ہے اور دونوں ایپس جلد ہی واپس آ جائیں گی۔ ٹیلی گرام کے سی ای او پاول دوروف نے ٹوئٹ کیا ہے کہ یہ خود نکالی گئی ہیں۔ "ہمیں ایپل کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ صارفین کے لیے نامناسب مواد پر دونوں ایپس ایپ اسٹور سے نکال دی گئیں۔” انہوں نے کہا کہ "دونوں ایپس جلد ہی واپس آ جائیں گی جیسے ہی مناسب اقدامات اٹھا لیے جائیں۔”

ٹیلی گرام عرصے سے شدت پسندوں کی وجہ سے سخت مسائل کا شکار ہے۔ دنیا جہاں کے شدت پسند اور دہشت گرد گروہ اس ایپ کو استعمال کرتے ہیں اور ادارے کو اُن کے چینلز بند کرنا پڑتے ہیں۔ روس کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے اس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ چند دیگر کارروائیوں کی وجہ سے بھی اسے تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے جیسا کہ ایک ٹیلی گرام پر ایرانی چینل نے گزشتہ سال اپنے صارفین کو اکسایا تھا کہ وہ پُرتشدد مظاہرے کریں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیلی گرام انکرپٹڈ میسیجنگ کی سہولت ہی نہیں دیتا بلکہ پبلک چینلز کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ میسیجنگ اور خفیہ چیٹس کے آپشن بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ کسی بھی ایسے شخص کے لیے بہترین ایپ ہے جو اپنی گفتگو کو خفیہ رکھنا چاہتا ہو، جیسا کہ دہشت گرد گروہ۔ بہرحال، ایپ اسٹور سے اسے اس لیے نہیں نکالا گیا، بلکہ یہ وہ مستقل مسئلہ ہے جس سے ٹیلی گرام نمٹ رہا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک ٹیلی گرام کو بحال کردیا گیا ہے۔ پاول دوروف کا کہنا ہے کہ ہر روز 5 لاکھ سے زیادہ صارفین اینڈرائیڈ پر ٹیلی گرام ڈاؤنلوڈ کر رہے ہیں جبکہ آئی او ایس پر یہ تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔