ٹیلی گرام کو بند کرنے کی کوشش میں ایمیزن اور گوگل نیٹ ورک بھی بلاک

1,129

روس میں کمیونی کیشنز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ابلاغ عامہ کے لیے کام کرنے والے وفاقی ادارے Roskomnadzor نے ٹیلی گرام کو بند کرنے کے لیے نئے قانون کو عملی طور پر لاگو کرتے ہوئے بندش کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ انکرپٹڈ چیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ ایپلی کیشن روس میں حکومت مخالف عناصر اور صحافیوں میں کافی مقبول ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس پر پابندی لگا دی گئی۔ اب جبکہ ٹیلی گرام کے سرورز کے لیے انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریسز کو بلاک کرنا بھی شروع کردیا گیا ہے، صارفین کی بڑی تعداد نے ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورکس اور پراکسی سرورز کا رخ کیا، تو حکومت نے آئی پی ایڈریسز کی بڑی تعداد کو بلاک لسٹ میں ڈالنا شروع کردیا۔

اب ذرائع کہہ رہے ہیں کہ ایمیزن اور گوگل جیسے بڑے اداروں کی گوگل سروسز کے آئی پی ایڈریسز بھی بڑی تعداد میں بلاک ہوگئے ہیں۔

Roskomnadzor کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ "ایمیزن کے ایڈریسز بلاک ہوئے ہیں کیونکہ اس پابندی کو دھوکا دینے کے لیے ٹیلی گرام میسنجر نے اس کا استعمال شروع کردیا ہے۔”

ٹیلی گرام روس میں حکومت کا ہدف بننے والی پہلی چیٹ ایپلی کیشن نہیں ہے۔ اس سے پہلے زیلو کو بھی روس میں بند کردیا گیا تھا۔ ماسکو میں علی الصبح کوئی 8 لاکھ ایمیزن آئی پی ایڈریسز اور ایک ملین سے زیادہ گوگل ایڈریسز بند ہوئے۔