ٹوکیو 2020ء اولمپکس میں چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا

769

گو کہ ماہرین اب بھی حقیقی اندازہ نہیں کہ چہرہ پہچاننے کی (facial recognition) ٹیکنالوجی چند سال بعد کیا روپ اختیار کرے گی اور اس کا استعمال کیا ہوگا؟ لیکن کئی ٹیکنالوجی ادارے اس میدان میں پہلے ہی قدم رکھ چکے ہیں، جیسا کہ ایپل جس نے یہ ٹیکنالوجی اپنے جدید آئی فون X میں شامل کی ہے اور اب اُس کی دیکھا دیکھی اب دیگر ادارے بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔

لیکن اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا استعمال ہمیں 2020ء کے اولمپکس میں نظر آئے گا جو جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہوں گے۔ اولمپکس کی انتظامی کمیٹی NEC کارپوریشن کا بنایا گیا سسٹم استعمال کرے گی جو جعلی یا چوری شدہ شناختی کارڈز سے پیدا ہونے والے مسائل کا خاتمہ کرکے سکیورٹی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا اور ساتھ ہی کھلاڑیوں، انتظامیہ کے اراکین اور صحافیوں کے میدانوں میں داخلے کے عمل کو تیز کرے گا۔ اندازہ ہے کہ یہ سسٹم 4 لاکھ افراد تک کو سنبھالے گا اور چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی کے بڑے پیمانے پر استعمال کا عملی مظاہرہ کرے گا۔

اس سسٹم کو تیار کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ ان چہروں کی تصاویر جمع کی جائیں تاکہ میدان میں آنے والے کھلاڑیوں اور کارکنوں کے چہروں سے تقابل کیا جا سکے۔

گو کہ اولمپکس اب بھی دو سال دور ہیں اور اس عرصے کے دوران ٹیکنالوجی کو عملی تجربات کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا لیکن یہ یہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگی۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے میدانوں میں داخلے کے عمل میں تاخیر کو روکے اور ٹیکنالوجی یا کوئی بھی دوسری وجہ مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

این ای سی کئی سالوں سے اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہا تھا اور 2014ء میں اس وقت عالمی خبروں میں بھی آیا جب اس کے سسٹم ‘نیوفیس’ نے شکاگو پولیس ڈپارٹمنٹ کو ایک مجرم پکڑنے میں مدد دی۔ نیوفیس لائیواسٹریمنگ سکیورٹی فوٹیج میں موجودہ چہروں کا جائزہ لیتا ہے، اپنے ڈیٹابیس میں اس سے ملتے جلتے چہروں کی شناخت کرتا ہے اور اگر کوئی بھی ملتا جلتا چہرہ مل جائے تو انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیتا ہے۔

ایک طرف تو ایسی ٹیکنالوجی دنیا میں پھیل رہی ہے، لیکن وہیں چند حلقے ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی عوامی نگرانی کو بڑھا سکتی ہے اور پرائیویسی اور شہری آزادی کی خلاف ورزی ہے۔