اوبر اور کریم کا انضمام، مذاکرات جاری

1,692

اوبر اور کریم مشرق وسطیٰ میں اپنی رائیڈ ہیلنگ سروسز کے انضمام کے لیے مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں یعنی ممکن ہے کہ مستقبلِ قریب میں ایک بڑی مسابقت کا خاتمہ ہو جائے۔ دونوں اداروں نے مختلف پہلوؤں پر غور کیا ہے لیکن ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔

اوبر جنوب مشرقی ایشیا، روس اور چین میں اپنے آپریشنز فروخت کر چکا ہے اور کریم کے ساتھ مذاکرات میں اوبر کا کہنا ہے کہ اگر وہ کریم کو خرید نہ بھی پایا تو مشترکہ ادارے کے نصف سے زیادہ حصص ضرور چاہے گا۔ ابھی تک اوبر اور کریم کے ترجمانوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

ایک تجویز کے مطابق کریم کے موجودہ رہنما مشترکہ ادارے کو روزمرہ بنیادوں پر منظم کریں گے اور کسی ایک یا دونوں اداروں کے مقامی برانڈز کو برقرار رکھیں گے۔ ایک اور تجویز ہے کہ اوبر کریم کو حاصل کرلے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان مذاکرات کا نتیجہ نہ نکل پائے۔

کریم، پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ میں اوبر کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے اور اس کی مالیت 1.5 ارب ڈالرز ہے۔ کریم 10 ممالک کے 70 شہروں میں کام کرتا ہے اور اس کی سب سے بڑی مارکیٹ سعودی عرب ہے۔ جبکہ اوبر میں سب سے بڑا سرمایہ کار بھی سعودی عرب ہے جس نے 2016ء میں ادارے 3 اعشاریہ 5 ارب ڈالرز کے حصص حاصل کیے تھے۔ ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال کے ادارے بھی کریم میں سرمایہ کاری رکھتے ہیں۔