اوبر کے ڈرائیورز ہڑتال پر

1,001

بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور یہی وجہ ہے کہ اوبر، اولا اور دیگر رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے ڈرائیورز کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے لیکن اُن کی اکثریت نے اب کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت میں اوبر اور دیگر کمپنیوں کے بیشتر ڈرائیورز ہڑتال پر ہیں بلکہ کئی مقامات پر انہوں نے سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا ہے۔ ان ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ وہ جتنا کما رہے ہیں، اس میں گزر بسر نہیں ہوتی۔

جب اوبر نے 2013ء میں بھارت میں قدم رکھا تھا تو اس وقت ادارہ ڈرائیورز کو اچھی ادائیگی کرتا تھا۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان سے ماہانہ 1500 ڈالرز تک کی کمائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی تنخواہ دار ملازمین نے بھی نوکریاں چھوڑ کر ڈرائیونگ کو پیشہ بنا لیا تھا۔ کسانوں نے اپنی زمینیں بیچ کر اور کئی افراد نے قرضے پر گاڑیاں لیں لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔ ڈرائیوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اوبر کی مشکلات تو آسان ہوگئیں لیکن فی سواری ان کا کمیشن 10 فیصد سے بڑھتے بڑھتے 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

اب عالم یہ ہے کہ ڈرائیور نہ صرف اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان اداروں کو دیتے ہیں، بلکہ قیمت مقرر کرنا بھی ادارے کے ہاتھ میں ہے ہی۔ وہ کسی بھی چھوٹے موٹے موقع پر تشہیری مہم چلا دیتے ہیں اور یوں ڈرائیورز مزید مصیبت میں پڑ جاتے ہیں۔ ایک ڈرائیور تنویر پاشا نے کہا کہ ہم دن میں صرف 10 ڈالرز کماتے ہیں اور تقریباً سبھی گاڑی پر لگ جاتا ہے کیونکہ یہ قسطوں پر ہے۔ اب باقی بچ جانے والے 200 روپے میں گھر کہاں سے چلے گا؟ ہڑتال کرنے والے ڈرائیورں کا کہنا ہے کہ وہ تب تک کام نہیں کریں گے جب تک یہ ادارے اپنے وعدے کے مطابق 1500 ڈالرز ماہانہ نہیں دیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق اوبر، اولا اور دیگر رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں نے بھارت میں 371 ملین ڈالرز کی آمدنی حاصل کی جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آمدنی 2022ء تک 761 ملین ڈالرز تک جا پہنچے گی۔