اوبر کی اڑن ٹیکسی کی رونمائی

1,586

اوبر نے لاس اینجلس، امریکا میں بجلی سے چلنے والی ایک فلائنگ ٹیکسی کی رونمائی کی ہے۔

ادارہ 2020ء سے لاس اینجلس، ڈیلاس اور دبئی میں ایئر ٹرانسپورٹیشن سروس ‘اوبر ایئر’ کے لیے تجرباتی مراحل شروع کرے گا اور اسے امید ہے کہ 2028ء تک وہ اپنی "اسکائی پورٹس” سے مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچانے کا کام شروع کردے گا۔ "اسکائی پورٹس” مختلف چھتوں پر بنائے گئے اوبر کی اڑن ٹیکسی کے خاص اسٹیشن ہوں گے، جن کے بارے میں اوبر کہتا ہے کہ ہر گھنٹے میں یہاں سے 200 ٹیک آفس اور لینڈنگز کی جا سکتی ہیں۔

جس بجلی سے چلنے والی عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کرنے والی "گاڑی” (eVTOL) کی رونمائی کی گئی ہے وہ پانچ پروں والا ہیلی کاپٹر لگتی ہے۔ چار پر ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے کام آتے ہیں جبکہ باقی دو eVTOL کو آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔

اپنے اعلامیے میں اوبر کا کہنا ہے کہ پروں کی تعداد انہیں روایتی ہیلی کاپٹروں سے زیادہ محفوظ اور خاموش بنائے گی۔ ان اڑن ٹیکسیوں کی رفتار 150 سے 200 میل یعنی 240 سے 320 کلومیٹرز فی گھنٹہ ہوگی اور یہ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد 100 کلومیٹرز تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ اڑن ٹیکسیاں صرف پانچ منٹ میں چارج ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

گو کہ ابتدائی طور پر ان اڑن ٹیکسیوں میں انسانی پائلٹ موجود ہوگا لیکن اوبر کا ہدف ہے انہیں خودکار بنانا۔ اس ہر eVTOL میں چار مسافر سفر کر سکیں گے۔

اوبر ٹریفک کنٹرول سسٹم بنانے کے لیے ناسا کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے البتہ اسے ایئربس، بوئنگ اور کٹی ہاک جیسے اداروں کے مقابلے کا سامنا ہے جو خود بھی فلائنگ ٹیکسی سروسز پر کام کر رہے ہیں۔