کیا؟؟؟ اوبر میں سفر ساڑھے 15 لاکھ روپے کا پڑ گیا

1,445

آپ کے خیال میں 20 منٹ کے سفر پر رائیڈنگ سروس اوبر (Uber) کو کتنے پیسے چارج کرنے چاہئیں؟ زیادہ سے زیادہ کوئی چار، پانچ سو روپے؟ اس لیے آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک صارف سے ساڑھے 18 ہزار کینیڈین ڈالرز (تقریباً 15 لاکھ 66 ہزار پاکستانی روپے) اینٹھ لیے گئے، حالانکہ اصل سفر صرف 20 ڈالرز کا تھا۔

اوبر ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک نامعلوم غلطی کی وجہ سے ہوا اور اب صارف کو اس کی پوری رقم واپس کردی گئي ہے۔ اس تجربے پر صارف سے دلی معذرت کرتے ہوئے اوبر نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ مستقبل میں دوبارہ ایسا نہ ہو، جس کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آخر ایسا ہوا کیوں؟

یہ خبر تب منظر عام پر آئی جب ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ اس کے دوست کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے دعویٰ بھی کیا تھا کہ اوبر نے ابتدائی طور پر پانچ میل کے سفر کے لیے اتنے پیسے ادا کرنے پر ہی اصرار کیا تھا حالانکہ سفر صرف 21 منٹ کا تھا۔

اگر آپ اوبر یا ایسی کوئی رائیڈنگ سروس استعمال کرتے ہیں تو آپ کو ‘پیک فیکٹر’ کے بارے میں ضرور معلوم ہوگا۔ جب طلب زیادہ بڑھ جاتی ہے تو اوبر کی سروس مہنگی پڑتی ہے لیکن اتنی زیادہ قیمت کسی بڑی خامی کی وجہ سے ہی ہوئی ہوگی۔

ویسے یہ پہلا موقع نہیں کہ اوبر نے کسی سے بڑی بھاری رقم لے لی ہو۔ 2016ء میں امریکی شہر فلاڈیلفیا کے ایک رہائشی سے 30 ہزار ڈالرز وصول کیے گئے تھے جبکہ 2015ء میں نیو یارک میں ایک خاتون سے 56 ڈالرز کے سفر کے 12 ہزار ڈالرز لیے گئے تھے۔

لیکن یہ غلطی اس لیے بھاری پڑ سکتی ہے کہ اس وقت اوبر بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ ایک طرف جہاں وہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں کام کرنے کے لیے لائسنس سے محروم ہو چکا ہے، وہیں کئی دوسرے اسکینڈلز میں بھی پھنسا ہوا ہے۔ جیسا کہ مقابل اداروں کے تجارتی راز چرانے سے لے کر ہیکر کو ایک لاکھ روپے ادا کرکے اپنا منہ بند رکھنے جیسی خبریں۔

اوبر نے فوری طور پر اِس خبر پر تبصرہ نہیں کیا تھا لیکن بعد میں ایک بیان جاری کیا کہ صارف کو پورے پیسے واپس کردیے گئے ہیں اور ساتھ ہی معذرت بھی کی گئی۔