"بس منہ بند رکھنا!” اوبر نے ایک لاکھ ڈالرز فلوریڈا کے 20 سالہ ہیکر کو دیے تھے

1,751

اوبر نے ‘بگ باؤنٹی پروگرام’ کا ڈراما رچا کر فلوریڈا کے ایک نوعمر ہیکر کو ایک لاکھ ڈالرز کی خطیر رقم دی تاکہ وہ ادارے کے 57 ملین صارفین کی معلومات ظاہر کرنے والی ڈیٹا ہیکنگ کے بارے میں خاموش رہے۔

معروف خبر رساں ادارے رائٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشہ سال کی گئی یہ ہیکنگ کسی پیچیدہ گروپ یا کسی ملک کا کام نہیں تھا بلکہ یہ ایک نوجوان کی کارستانی تھی، جس کے بارے میں ابھی نومبر میں جاکر پتہ چلا۔ اس ہیک میں دنیا بھر میں اوبر کے 57 ملین صارفین کے نام، ای میل ایڈریس اور فون نمبرز چوری کیے گئے تھے جبکہ 6 لاکھ ڈرائیوروں کے لائسنس کی کاپیاں بھی ہیکر کے ہتھے آ گئی تھیں۔

یہ کارروائی 2016ء میں کی گئی تھی جس پر زبان بند رکھنے کے لیے ہیکر کو ایک لاکھ ڈالرز دیے گئے اور اوبر نے بگ باؤنٹی پلیٹ فارم سے اسے یہ ادائیگی کی تھی۔ شرائط کے تحت اس بے نام شخص نے معاملے کو نہ کھولنے، اوبر کو دوبارہ ہیک نہ کرنے اور ادارے کی ٹیم کو اپنی مشین کی فورینزک جانچ کرنے کی اجازت دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نو عمر ہیکر اپنی والدہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے اور روزمرہ اخراجات کے لیے بھی ترستا رہتا ہے۔

اپنے نظام میں خامی کو پکڑنے پر مختلف ادارے ہیکرز اور پروگرامرز کو سراہتے ہیں لیکن اتنی بڑی رقم کبھی کوئی ادارہ نہیں دیتا۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اوبر کس قدر گھبرا گیا تھا اور وہ اس معاملے پر خاموشی چاہتا تھا۔ اس کی وجہ یہی ہوگی کہ گزشتہ چند سالوں سے اوبر ایک کے بعد دوسرے تنازع میں پھنستا جا رہا ہے لیکن اتنے سارے صارفین کی معلومات کھل جانا اس کی بہت بڑی ناکامی تھی، اس لیے اس نے چھپانے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔