اپڈیٹس سے سسٹم پرفارمنس میں واضح کمی آئے گی: مائیکروسافٹ

1,740

مائیکروسافٹ نے تصدیق کردی ہے کہ میلٹ ڈاؤن اور اسپیکٹر نامی پروسیسر بگس کے خلاف سسٹم پیچز جاری ہونے کے بعد ونڈوز کے پرانے ورژنز کے صارفین کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ ان کے سسٹم کی کارکردگی میں واضح کمی آئے گی۔

یہ بگس، جو زیادہ تر انٹیل پروسیسر کو متاثر کر رہے ہیں لیکن چند اے آر ایم اور اے ایم ڈی چپس بھی نشانہ بنی ہیں، دنیا کے بیشتر کمپیوٹرز اور فونز کو حملوں کی زد میں لے آئے ہیں۔ ان پر ایک کامیاب حملہ محفوظ و حساس ڈیٹا جیسا کہ پاس ورڈز اور دیگر رازوں کو پڑھ سکتا ہے۔

مائیکروسافٹ نے3 جنوری کو اس کے لیے اپنے سکیورٹی اپڈیٹس جاری کیے تھے تاکہ آپریٹنگ سسٹم کی سطح پر مسئلے کو حل کیا جائے۔ انٹیل نے بھی اپنے مائیکروکوڈ گے لیے اپڈیٹس جاری کیے ہیں۔

اپڈيٹس میں کمپیوٹر کی میموری تک رسائی کے طریقے میں تبدیلی کی وجہ سے مائیکروسافٹ کارکردگی میں کمی کا خدشہ ظاہر کرتا ہے البتہ اس کا انحصار کمپیوٹر کے پروسیسر اور ونڈوز کے ورژن کی عمر پر ہوگا۔ مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ ونڈوز7 اور ونڈوز 8 چلانے والے پرانے پروسیسرز، جیسا کہ 2015ء کے ہیزویل یا اس سے پرانی چپس کی کارکردگی سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔ کارکردگی میں آنے والی یہ گراوٹ بہت واضح بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ بوٹ ٹائم میں اضافہ ہو جائے گا۔

ایسے ونڈوز 10 صارفین جو پرانا ہارڈویئر استعمال کر رہے ہیں ان کو تو بہت زیادہ سست رفتاری کا سامنا کرنا ہوگا اور خدشہ ہے کہ چند صارفین کو اپنے سسٹم کی کارکردگی میں بڑی کمی دیکھنا ہوگی۔ لیکن 2016ء اسکائی لیک اور کیبی لیک یا اس کے بعد جاری ہونے والے پروسیسرز کے حامل ونڈوز 10 صارفین اس سے بچے رہیں گے۔

اگر آپ کو اب تک کوئی patch موصول نہیں ہوا ہے تو اس کا ایک سبب آپ کے اینٹی وائرس کی جانب سے اپڈیٹس کو بلاک کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ وہ میلٹ ڈاؤن اور اسپیکٹر پیچز یا مستقبل کے سکیورٹی اپڈیٹس نہیں دے گا اگر آپ کا کمپیوٹر کوئی تھرڈ پارٹی اینٹی وائرس چلاتا ہے جس ونڈوز کی فہرست میں درج نہیں۔