اردو لغت کے ڈجیٹل ایڈیشن کا افتتاح ہو گیا

2,813

اردو لغت بورڈ کی سالہا سال کی محنت شاقہ کا نتیجہ وہ 22 جلدوں پر مشتمل قومی اردو لغت ہے، جو اب نئے دور میں جدید شکل اختیار کرگئی ہے۔ گزشتہ روز صدر پاکستان ممنون حسین نے اردو لغت کے ڈجیٹل ایڈیشن کا افتتاح کیا جو بلاشبہ قومی زبان کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔

قومی اردو لغت دو لاکھ 26 ہزار الفاظ پر مشتمل ہے اور اب لغت تک دنیا بھر سے باآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ اردو لغت بورڈ کے ایڈیٹر ان چیف عقیل عباس جعفری کا ہی کارنامہ ہے جنہوں نے یہ عہدہ سنبھالتے ہی اس اہم ترین کام کو کچھ عرصے میں مکمل کروایا۔ مشیر برائے قومی تاریخ و ورثہ عرفان صدیقی کے مطابق اس منصوبے پر 13.2 ملین روپے لاگت آئی جبکہ یہ دو سال میں مکمل ہوا۔

اس اہم ترین موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ لغت کا اجراء اردو زبانوں کے عالمی زبانوں کے مقابلے پر ایک مقام دے گا۔ انہوں نے لغت کو ایک ہزار سالہ ثقافتی روایات کا عکاس قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ ایسے منصوبے ہمیں غیر ملکی ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھنے میں مدد دیں گے۔ اس موقع پر ممنون حسین نے امید کا اظہار کہ کہ اردو لغت بورڈ اس لغت کو اپڈیٹ رکھنے کے لیے کام جاری رکھے گا اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں اس لغت میں آواز بھی شامل کی جائے گی تاکہ مختلف الفاظ کی ادائیگی کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔

اس موقع پر عرفان صدیقی نے بتایا کہ بچوں کے لیے بھی ایک مختصر لغت تیار کی گئی ہے اور لغت اقبال اور لغت غالب پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ قاری ان دو عظیم شعراء کی شاعری میں موجود نامانوس الفاظ کے بارے میں جان سکیں۔ اس موقع پر عرفان صدیقی نے کہا کہ اکادمی ادبیات کے دفاتر دادو، مظفر آباد، گلگت اور ملتان میں بھی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن نے گزشتہ سال 350 ملین روپے مالیت کی کتب فروخت کیں۔

اردو لغت یہاں دستیاب ہے۔