وائجر 1 ابھی بھی زندہ، عمر مزید تین سال بڑھ گئی

Artist's concept of Voyager in flight.
1,252

امریکی خلائی ادارے ناسا کی کوشش ہے کہ وہ "وائجر 1” کے ریسیورز کا رخ زمین کی طرف موڑ دے تاہم ناسا کو وائجر 1 کے ایٹی ٹیوڈ کنٹرول تھرسٹرز "attitude control thrusters” کو چلانے میں دشواری کا سامنا ہے جو چالیس سال گزرنے کے بعد ممکنہ طور پر خراب ہوگئے ہوں گے۔

خیال رہے کہ وائجر 1 کا اس وقت زمین سے فاصلہ 13 ارب میل (20 ارب کلومیٹر) ہے اور اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ انسانی کی بنائی ہوئی واحد ایسی چیز ہے جو خلا میں اتنی دور گئی ہو۔

اس پلان کی ناکامی کے بعد ناسا نے ایک نئی تجویز پر عمل کرنا شروع کیا اور خلائی جہاز کے پیچھے نصب "trajectory correction maneuver” نامی انجنز کو چلانے کی کوشش کی اگرچہ زیادہ تر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اتنے عرصے بعد یہ ترکیب بھی شاید ہی کام کرے تاہم اس پر عمل کیا گیا اور انہیں چلا کر 19 گھنٹے اور 35 منٹ جواب کا انتظار کیا گیا کیونکہ یہی وہ وقت ہے جو نتائج کو زمین تک پہنچنے میں درکار ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ ترکیب کام کر گئی اور چاروں انجن پوری طرح چل پڑے جس کے بعد سائنسدانوں کو توقع ہے کہ وائجر 1 کی عمر مزید 2 سے 3 سال بڑھ جائے گی۔

یاد رہے کہ وائجر 1 اور وائجر 2 کو 1977 میں خلا میں بھیجا گیا تھا، ستمبر 2013 کو وائجر 1 نظامِ شمسی کی حدود سے باہر نکل کر گیا تھا۔