ننھا ویئریبل جو بتائے کہ آپ کیا کچھ کھا رہے ہیں؟

775

یہ ننھی سینسر ٹیکنالوجی اب نئے عہد میں داخل ہو رہی ہے اور کسی بھی فرد کی خلوت (پرائیویسی) میں مداخلت کا بھی نیا دروازہ کھل رہا ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا ویئریبل بنایا ہے جو انسانی دانت پر چپکایا جا سکتا ہے اور پھر ہر کھانے والی چیز کے بارے میں ڈیٹا بھیج سکتا ہے۔

وائرلیس سینسر ٹیکنالوجی کا یہ شاہکار ٹفٹس یونیورسٹی اسکول آف انجینیئرنگ کی ٹیم نے بنایا ہے جو کھانے پینے کی مانیٹرنگ کے لیے بہترین ڈیوائس ہے۔ اس کا کام طبی تحقیق کے حوالے سے بہت اہم ہے اور واقعتاً کئی جانیں بچا سکتا ہے۔

یہ ڈیوائس ڈاکٹروں کو سہولت دے گی کہ وہ مریض کی خوراک کے بارے میں جان سکیں، وہ بھی اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے کہ ان کا مریض کیا کھا اور پی رہا ہے۔ اس سے ہنگامی صورت حال پیدا ہونے سے پہلے ہی کئی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص وہ افراد جنہیں گلوکوز اور سوڈیئم کی مقدار پر نظر رکھنا پڑتی ہے یا ان کے لیے جو پرہیزی کھانے نوش فرماتے ہیں۔

لیکن ۔۔۔ 2018ء میں جو ذاتی ڈیٹا کے حوالے سے اب تک اچھا سال ثابت نہیں ہوا اور کیمبرج اینالٹکا اور فیس بک کے اسکینڈل نے دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک کی چولیں ہلا دی ہیں، ایسے وقت میں کوئی شخص نہيں چاہے گا کہ اس پر ایسی کڑی نگاہ رکھی جائے۔ پھر بھی طبی لحاظ سے یہ ٹیکنالوجی کئی جانیں بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔