شیاؤمی نے OPPO کو پچھاڑ دیا، دنیا کی چوتھی بڑی کمپنی بن گئی

4,168

ایک جانب دنیا بھر میں اسمارٹ فون فروخت زوال کا شکار ہے تو دوسری جانب چند اسمارٹ فون کمپنیاں ایسی بھی ہیں جو دن بدن ترقی کے نئے ریکارڈز قائم کر رہی ہیں۔ ان میں سرفہرست چینی کمپنی شیاؤمی ہے جس کے متعلق خبر ہے کہ یہ اسمارٹ فون فروخت کرنے والی دنیا کی چوتھی بڑی کمپنی بن گئی ہے۔

اسمارٹ فون مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والی بین الاقوامی ڈیٹا کارپوریشن (IDC) نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق شیاؤمی عالمی طور پر دو کروڑ اسی لاکھ فونز کی فروخت کے ساتھ چوتھے نمبر پر براجمان ہو گئی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے اس مقام پر اوپو موجود تھی جسے شیاؤمی نے پانچویں نمبر پر دھکیل دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال 2018 کی پہلی سہ ماہی میں اسمارٹ فونز کی عالمی فروخت میں 2.9 فی صد کمی آئی ہے۔ جس نے اس صنعت سے منسلک بڑے بڑے اداروں کو پریشان کر دیا ہے۔ (اسی تناظر میں کمپیوٹنگ پر ایک مضمون بھی شائع کیا گیا ہے) لیکن اس ضمن میں کچھ کمپنیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے تیارکردہ اسمارٹ فونز کی ترسیل و فروخت میں پہلے سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ ان میں ہوواوے اور شیاؤمی سرفہرست ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سام سنگ دنیا بھر میں 7 کروڑ 82 لاکھ یونٹس کی ترسیل کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ جس کا مارکیٹ میں کل حصہ 23.4 فی صد بنتا ہے۔ دوسرے نمبر پر 5 کروڑ 22 لاکھ یونٹس کے ساتھ ایپل ہے جس کا کل حصہ 15.6 ہے۔ تیسرے نمبر پر تقریباً 4 کروڑ اسمارٹ فونز کی ترسیل کے ساتھ ہوواوے ہے جس کا مارکیٹ حصہ 11.8 فی صد ہے۔ جو کہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 13.8 فی صد اضافہ ہے۔

فہرست میں سب سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے شیاؤمی نے۔ جس کے تیار کردہ اسمارٹ فونز کی ترسیل میں 87.8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ ترسیل گزشتہ سال کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ کر دو کروڑ اسی لاکھ یونٹس تک جا پہنچی ہے۔ اس کا کل مارکیٹ حصہ 8.4 فی صد ہو گیا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ شیاؤمی دنیا بھر میں اسمارٹ فونز ترسیل کرنے والی چوتھی بڑی کمپنی بن گئی ہے۔ جبکہ پہلے اس نمبر پر موجود اوپو کے یونٹس کی ترسیل میں 7.1 فی صد کمی آئی ہے۔اور وہ اس وقت فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔

اب دیکھنا ہو گا کہ شیاؤمی مستقبل میں بھی اس کارکردگی کو برقرار رکھ پاتی ہے یا پھر مجموعی فروخت میں ہونے والی کمی کی نذر ہو جاتی ہے۔ فی الحال رپورٹ میں اسمارٹ فونز کی دنیا بھر میں مجموعی ترسیل میں 2.9 فی صد کمی کو اس صنعتی شعبہ کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کمپنیاں اپنی مصنوعات میں جدت لائیں جس طرح حال ہی میں ہوواوے نے P20 پرو میں تہرے عدسوں والے کیمرہ کو متعارف کروایا ہے۔ اسی طرح کے اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر متوقع طورپر مارکیٹ تسلسل کے ساتھ کمی کا شکار رہے گی۔

بین الاقوامی ڈیٹا کارپوریشن کی رپورٹ کو تفصیلاً پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔