یوٹیوب وڈیو بنانے کے دوران قتل، لڑکی کا اعتراف

1,550

امریکا میں ایک خاتون نے یوٹیوب وڈیو بنائے جانے کے دوران اپنے دوست کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

یہ واقعہ رواں سال جون میں پیش آیا تھا جس میں 22 سالہ پیڈرو روئز اپنی دوست 20 سالہ مونالیزا پیریز کے ہاتھوں اُس وقت قتل ہوگیا تھا جب دونوں یوٹیوب کے لیے ایک کرتب دکھا رہے تھے۔

پیریز نے بتایا کہ روئز ایسی وڈیو بنانا چاہتے تھے جس میں وہ انسائیکلوپیڈیا جیسی ایک موٹی کتاب کو اپنے سینے پر پکڑ کر کھڑے ہوتے اور میں ان پر گولی چلاتی، اس کی وڈیو ہمیں یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا تھی۔ پیریز نے بتایا کہ انہوں نے .50 کیلیبر ڈیزرٹ ایگل پستول کے ذریعے فائر کیا۔ اس پورے واقعے کو دو کیمروں نے فلمایا لیکن وڈیو معاملے کی تحقیقات کرنے والوں کے پاس ہے۔

موقع پر ہی جان گنوانے والا روئز مونالیزا کے دو بچوں کا باپ بھی تھا۔ دونوں ایک یوٹیوب چینل کے مالک تھے جہاں وہ مختلف کرتب اور مزاحیہ حرکتوں کی وڈیوز ڈالتے تھے۔

واقعے سے چند گھنٹے قبل مونالیزا نے ٹوئٹ کیا تھا کہ "میں اور پیڈرو سب سے خطرناک وڈیو بنانے والے ہیں۔ یہ آئیڈیا اُن کا ہے، میرا نہیں۔”

مونالیزا کو فروری میں سزا سنائی جائے گی۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اُن کو چھ ماہ قید اور 10 سال کی کڑی نگرانی میں رکھنے کی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی وہ ممکنہ طور پر اپنی وڈیوز سے منافع حاصل نہیں کر پائیں گی اور بندوق رکھنے پر تاحیات پابندی کا بھی سامنا کریں گی۔