زمین کی لائیو اسٹریمنگ کا منصوبہ

761

اپنے آرام دہ کمرے میں بیٹھ کر زمین پر نت نئے مقامات تلاش کرنا اور دیکھنا اب پرانا مشغلہ ہو چکا، گوگل ارتھ بہت عرصے سے عام صارفین کو یہ سہولت مہیا کر رہا ہے۔ لیکن اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ آپ براہ راست پوری زمین کو دیکھ سکتے ہیں، ہے نا شاندار خیال؟ یہی وہ ہدف ہے جو خلائی تصویر کشی کا اسٹارٹ ارتھ ناؤ (EarthNow) حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد زمین کے گرد سیٹیلائٹس کا ایسا جال بچھانا ہے جو سیارے کی کسی بھی جگہ سے وڈیو فراہم کر سکیں، اور یہ اتنی براہ راست ہوگی کہ شاید ایک یا دو سیکنڈ کا ہی فرق ہو۔ اس سروس کا ہدف "انٹرپرائز اور سرکاری” صارفین ہیں اور یہ طوفانوں پر نگاہ رکھنے، فسادات کے دوران، قدرتی آفات میں اور غیر قانونی ماہی گیری سمیت کئی معاملات پر نظر رکھنے والے اداروں کے بہت کام آئے گی۔ یہ کوئی خام خیالی نہيں بلکہ اب تو ارتھ ناؤ کو بل گیٹس، ایئربس اور سافٹ بینک جیسے بڑے اداروں اور شخصیات کا سہارا بھی مل چکا ہے۔

بلاشبہ یہ بہت مہنگا منصوبہ ہوگا۔ ادارے کے مطابق ہر سیٹیلائٹ کو غیر معمولی پروسیسنگ پاور رکھنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ وڈیو پروسیسنگ اور کمپریسنگ کے لیے کافی طاقت درکار ہوتی ہیں اور سیٹیلائٹس کی قوت کافی محدود ہوتی ہے۔

ایئربس ان سیٹیلائٹس کو تیار کرنے کا ذمہ دار ہوگا جو اپنے فرانس اور امریکا میں واقع کارخانوں میں بنائے گا البتہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ایسے کتنے سیٹیلائٹس بنائے جائيں گے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے پر آنے والی لاگت بھی ابھی تک معلوم نہیں، لیکن جس طرح کے سرمایہ کار اکٹھے کیے گئے ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ بہت بڑی رقم ہوگی۔ یہ منصوبہ نجانے کب مکمل ہوگا، لیکن جب بھی ہوا بہت متاثر کن ہوگا۔