زیادہ تر صارفین فون بیچتے ہوئے میموری کارڈز صاف نہیں کرتے

3,836

یہ پایا گیا ہے کہ زیادہ تر افراد اپنی پرانی ٹیکنالوجی ڈیوائسز فروخت کرنے سے قبل میموری کارڈز کو صاف نہیں کرتے۔ یونیورسٹی آف ہرٹفورڈشائر کی ایک سائبر سکیورٹی ٹیم نے ایک تحقیق میں پایا ہے کہ برطانیہ میں فروخت کردہ استعمال شدہ موبائل فونز اور ٹیبلٹس میں موجود دو تہائی میموری کارڈز اپنے پرانے مالکان کی ذاتی معلومات رکھتے ہیں۔

چار ماہ کے عرصے میں ریسرچ ٹیم نے ای بے، روایتی نیلامیوں، عام دکانوں اور دیگر ذرائع سے ایک سو استعمال شدہ ایس ڈی اور مائیکرو ایس ڈی کارڈز خریدے۔ بیشتر کارڈز استعمال شدہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں لگے ہوئے تھے جبکہ سیکنڈ ہینڈ کیمروں، سیٹ نیو ڈیوائسز اور ڈرونز میں بھی نصب تھے۔

تحقیق کرنے والوں نے ان میموری کارڈز کو ڈیوائسز سے نکالا اور مفت دستیاب سافٹویئرز کی مدد سے حیران کن ڈیٹا نکالنے میں کامیاب رہے۔ اس میں ذاتی اور حساس معلومات جیسا کہ پاسپورٹ، ذاتی تصاویر جیسی معلومات بھی ملیں، رابطوں کی فہرست بھی اور شناختی نمبرز وغیرہ بھی۔

جن 100 کارڈز کا جائزہ لیا گیا ان میں سے 36 فیصد اچھی طرح صاف نہیں کیے گئے تھے، 29 فیصد کو فارمیٹ تو کیا گیا تھا لیکن معمولی علم رکھنے والا بھی ان میں سے ڈیٹا ریکور کر سکتا تھا؛ 2 فیصد میں ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا لیکن پھر بھی ریکور کرنے کے قابل تھا، 25 فیصد کو ڈیٹا اریزنگ ٹول کی مدد سے اچھی طرح صاف کیا گیا تھا اور یوں ان میں سے کوئی ڈیٹا ریکور نہیں ہو پایا، 4 فیصد خراب ہونے کی وجہ سے استعمال نہ ہو پائے اور 4 فیصد میں کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں تھا۔

میموری کارڈ کو وائپ کرنا ایک سادہ عمل ہے لیکن اسے کچھ وقت لگتا ہے۔ زیادہ تر صارفین کے لیے کارڈ کو فارمیٹ کرنا ہی کافی ہوتا ہے لیکن یقینی بنائیں کہ کارڈ کو فل فارمیٹ کیا گیا ہے، کوئیک فارمیٹ نہیں۔ اس کے علاوہ ڈسک وائپنگ ایپ بھی استعمال کی جا سکتی ہے جو آپ کے فون کے کارڈ کے لیے زیادہ کارآمد ہوگی۔