ایک ہی سال میں صرف گوگل پر 24 ارب سیلفیز اپ لوڈ کی گئیں

گوگل کے سرورز پر پچھلے سال 24ارب سے زائد ایسی تصاویر اپ لوڈ کی گئیں جو کہ سیلفیز (selfies) تھیں۔ گوگل نے یہ پتا لگانے کے لئے کہ آیا تصویر سیلفی ہے یا نہیں، مشین لرننگ تکنیک جس کے ذریعے تصاویر کو سمجھا جاسکتا ہے، کا استعمال کیا۔ مشین لرننگ کے ذریعے گوگل نے اپنی معروف ایپلی کیشن Photos پر اپ لوڈ کی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا اور ایسی تصاویر کو نشان ذد کیا جو کہ سیلفیز تھیں۔

گوگل فوٹوز ایپلی کیشن پر ہر ماہ دنیا بھر سے 20 کروڑ صارفین تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ انہی 20 کروڑ افراد کی ایک سال میں اپ لوڈ کی ہوئیں تصاویر میں سے 24 ارب سیلفیز تھیں۔ یعنی دنیا کی کل آبادی سے بھی کہیں زیادہ سیلفیز صرف گوگل فوٹوز پر اپ لوڈ کی گئیں۔ دنیا میں ایک سال میں صرف 24ارب سیلفیز نہیں بنائی گئی ہونگی۔ 24 ارب کا عدد تو شاید مجموعی سیلفیز کی تعداد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوگا۔ گوگل نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ صرف گوگل فوٹوز ایپ پر اپ لوڈ کی ہوئیں تصاویر کے بارے میں ہیں۔ اس میں وہ سیلفیز شامل نہیں جو ایپل کلاؤڈ پر ہیں اور سب سے بڑھ کر فیس بک، اسنیپ چیٹ ، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر شیئر کی گئی سیلفیز کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔

اندازوں کے مطابق 2014ء میں سوشل میڈیا پر ہر ہفتے 17 ملین سیلفیز اپ لوڈ ہوئیں تھیں، تاہم گوگل کے پیش کیے ہوئے اعداد و شمار سے لگ رہا ہے کہ اب سیلفی لینے والے جنونیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ گوگل کے پیش کیے ہوئے اعداد و شمار کے بارے میں ایک بات ذہن میں رہے کہ گوگل کی اعداد و شمار کی بنیاد گوگل فوٹوز پر ہے۔ گوگل فوٹوز صارفین کی ڈیوائسز میں موجود تمام تصاویر ہی اپ لوڈ کر لیتا ہے۔ پچھلے سال جو تصاویر اپ لوڈ کی گئیں، اُن کا مجموعی سائز 13.7 پیٹا بائٹس تھا۔ بہت ممکن ہے کہ صارفین کی ڈیوائسز سے جو تصاویر اپ لوڈ ہوئیں ہوں اُن میں سے بہت سی پچھلے سالوں میں لی گئیں ہوں۔

گوگل نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس نے پچھلے سال گوگل فوٹوز کو متعارف کرایا تھا، جس کو استعمال کرتے ہوئے تمام صارفین اپنی ڈیوائسز سے 13.7 پیٹا بائٹس جگہ صاف کر چکے ہیں۔ گوگل نے بتایا کہ اگر ان تمام تصاویر کو swapکرنا شروع کیا جائے (یعنی یکے بعد دیگرے انہیں موبائل فون پر دیکھنا شروع کیا جائے) تو اس میں 424سال لگیں گے۔ گوگل نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 20 کھرب تصاویرپر لیبل لگائے ہیں، جن میں سے 24ارب تو صرف سیلفیز ہیں۔

گوگل کے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ بہت زیادہ سیلفیز لینے والے دوسروں کی نسبت اپنی تصاویر کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔گلیوں، بازاروں اور سیاحتی مقامات پر پرفیکٹ سیلفی لینے کے خواہش مند حضرات کے لیے گوگل کے اعداد و شمار حیران کن ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ماہرین نفسیات کی ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ سیلفی لینے والوں کو یہی تجسس رہتا ہے کہ جب وہ خود کو نہیں دیکھ پاتے وہ دوسروں کو کیسے نظر آتے ہیں۔بہت سے لوگوں میں سیلفی کا جنون اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ ہفتے میں 20، 50 حتی کہ 100 سیلفیاں بھی لیتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جب شامی مہاجرین جان لیوا سفر کے بعد یورپ کے ساحل پر پہنچے تو ان میں سے بھی کئی مہاجرین نے سب سے پہلے اپنی سیلفی لی۔