اوپن سورس تحریک

اوپن سورس کے سورج کے طلوع نے گویا ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور دستیاب ٹیکنالوجی کے درمیان حائل دیوار کو گرادیا۔ 1970ء اور اس سے پہلے بھی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق لوازمات موجود تھے مگر یہ صرف چند ملکوں تک ہی محدود تھے (اب بھی ہیں) کیونکہ ان ملکوں نے ایسی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کو کسی دوسرے ملک کو فروخت کرنے پر پابندیاں لگا رکھی تھیں۔ یہ ملک سمجھتے تھے کہ ایسی مشینری اور پروگرام جو ان کے حساس اداروں میں مستعمل ہیں، کو فروخت کرنے سے ان کی کمزوریاں ظاہر ہوجائیں گی اور یہ بہت ممکن ہے کہ یہ دشمن ہاتھوں میں پہنچ جائیں، چنانچہ ہم تک جو بھی پہنچتا وہ صرف عام اور بے ضرر قسم کی تجارتی ٹیکنالوجی ہوتی تھی۔

جب اوپن سورس کی تحریک شروع ہوئی تو عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا کہ اس میں کام کرنے والے ملازمت کی تلاش میں ہلکان لوگ ہیں جو ایسا اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ’’کلوزڈ سورس‘‘ میں ملازمتیں حاصل کر سکیں، یا پھر شوقیہ لوگ ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر یہ ایک ’’بھاری‘‘ قسم کی ٹیکنالوجی ثابت ہوئی، کیونکہ اس میں کام کرنے والے ویسے لوگ نہیں تھے جیسا کہ سمجھا جانے لگا، بلکہ سائنسی تحقیق کے ادارے، یونیورسٹیاں اور بڑی بڑی کمپنیاں تھیں۔ مثلاً معلومات کی ترمیز یا رمز نگاری (انکرپشن) کا طریقہ کار جسے امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی NIST نے وضع کیا تھا اور جو DES کہلاتا ہے، اس سے کہیں کمزور ہے جسے اوپن سورس آرگنائزیشن گنو (www.gnu.org) نے وضع کیا تھا۔ چنانچہ NIST نے ابھی تک امریکی حکومت کے کمپیوٹروں میں DES کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔

میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) نے بھی اپنی ایک خاص لینکس ڈسٹرو (Distro) بنا رکھی ہے جو SELinux کہلاتی ہے اور جسے انہوں نے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالا اور بنایا ہے۔ مگر چونکہ لینکس ایک آزاد مصدر نظام ہے اس لئے NSA اسے GPL لائسنس کے تحت ’’سیکرٹ‘‘ نہیں رکھ سکتی اور اسے خاص وزد عام کرنے پر مجبور ہے چنانچہ آپ SELinux اور اس کا مصدر بڑے آرام سے NSA کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
فی الوقت دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر (اور دوسرا بھی) لینکس پر چل رہا ہے۔ اس اعتماد کی وجہ وہ فلسفہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اوپن سورس سافٹ ویئر کا کوڈ چونکہ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے چنانچہ یہ امکان قطعی ختم ہوجاتا ہے کہ اس میں ’’جان بوجھ‘‘ کر چھوڑا گیا کوئی ’’سیکیورٹی ہول‘‘ ہوگا جو بعد میں کسی خطرناک صورتحال پر منتج ہوسکے۔ بہر صورت ہر کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی غلطی کی دریافت پر اسے خود ہی درست کردے اور اوپن سورس کے قانون کے تحت اسے دنیا کے لئے نشر کردے۔

آپ کو حیرت ہوگی کہ امریکی حکومت معلومات کی ترمیز (ڈیٹا انکرپشن) کے ایسے سافٹ ویئر بنانے اور پبلش کرنے کی اجازت نہیں دیتی جنہیں بعد میں غیر رمز شدہ نہ کیا جاسکے جب تک کہ اس کی کوئی ’’ماسٹر کی‘‘ نہ ہو۔

صدمہ!!

مذکورہ بالا باتیں صدمہ نہیں بلکہ خوش آئند ہیں کہ دنیا کے غریب ممالک بھی معلومات کی اعلیٰ سے اعلیٰ ٹیکنالوجی حاصل کر سکیں، لیکن صدمہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر ماہرین (باہر سے لوٹے ہوئے بہت کم) تجارتی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں…!! چنانچہ ہم اوپن سورس کی دنیا سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے، خاص طور پر جبکہ اوپن سورس کے اکثر پروجیکٹ کا مصدر صرف ’’کوڈ‘‘ کی صورت میں دستیاب ہوتا ہے نا کہ تیار حالت میں، اور جو بات سب سے زیادہ افسوسناک ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نصاب کے ماہرین بھی تجارتی دنیا سے ہی تعلق رکھتے ہیں، اوپر سے طرہ یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ مِس ہوا ہے وہ کچھ کم نہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں سافٹ ویئر بنتے اور معدوم ہوجاتے ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔

مثال کے طور پر ایک سافٹ ویئر Viکے نام سے بنتا ہے اور پھر Vi Improved آتا ہے یعنی یہ Vi کی بہتر شکل ہے تو اگر ہم Vi کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو ہمیں یہ کیسے معلوم ہوگا کہ VIM کیا ہے…؟؟ اور یہی ہمارے ماہرین کی صفوں میں امیت کی ایک شکل ہے…!!
اگر آپ کسی بڑی پاکستانی ویب سائٹ (جو بہت کم ہیں اور زیادہ تر رومن اردو استعمال کرتی ہیں) پر چلے جائیں تو دیکھیں گے کہ ہمارے اکثر ماہرین وطنِ عزیز کے باہر سے بات کر رہے ہوں گے … ممکن ہے کہ اب کچھ صورتحال مختلف ہوگئی ہو اور کچھ ماہرین وطنِ عزیز میں رہتے ہوئے بھی کام کر رہے ہوں مگر افسوس کہ ان کی اس طرح پذیرائی نہیں کی جاتی جتنی کہ ان کی وطنِ عزیز سے باہر ہونے پر کی جاتی ہے۔

ان مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ چیزوں کے ’’تسمیہ‘‘ کا بھی ہے … یعنی چیزوں کے نام ان کے کام کے حساب سے نہیں لیے جاتے بلکہ ان کے تجارتی نام استعمال کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر آپ نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ہوگا جو ’’کولا‘‘ طلب کر رہا ہو … بلکہ برانڈ نیم ’’پیپسی‘‘ یا ’’کوکا کولا‘‘ طلب کیا جاتا ہے۔ یہی بات ڈیٹرجنٹ پر بھی صادق آتی ہے اور یہی بات اب کمپیوٹر سافٹ ویئر میں بھی داخل ہوگئی ہے۔
مثال کے طور پر ہمارے اکثر صارفین کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ’’مائیکروسافٹ ورڈ‘‘ دراصل ’’ورڈ پراسیسر‘‘ ہے … چنانچہ وہ اسے ’’مائیکروسافٹ ورڈ‘‘ ہی کہتا ہے جو کہ اصل میں برانڈ نیم ہے اور یہی کلیہ وہ ہر نئے آنی والی چیز پر لاگو کرتا ہے۔ اس کے علاوہ غلط مفاہیم کی بھی کمی نہیں کہ بعض کے ہاں Bad sector ایک وائرس ہوتا ہے اور بعض لوگ سی ڈی کو تشابہ کی وجہ سے ’’کیسٹ‘‘ سمجھتے ہیں … !!

یہاں مسئلہ زیادہ یا کم جاہلوں کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایسے لوگوں کو ایسے مراکز پر بٹھا دیا جاتا ہے جہاں ان کے فیصلے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً بچوں کے ایک تعلیمی پروگرام میں ایک خاتون فرما رہی تھیں ’’بچو! آج ہم مقناطیس بنائیں گے، پلاسٹک کی ایک کنگھی لائیں اور اسے کسی سوتی کپڑے پر رگڑیں پھر اس کنگھی کو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے قریب لائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ہمارا مقناطیس کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچ لے گا‘‘

اس بات میں دو آفتیں ہیں، پہلی یہ کہ ساکن بجلی مقناطیس نہیں ہوتی، اور دوسری یہ کہ مقناطیس کاغذ کو اپنی طرف نہیں کھینچتا … !!
اسی طرح نصاب کی بعض کتابوں میں (ایک نصاب ہو تو بتائیں) سافٹ ویئر کی تنصیب کچھ اس طرح سکھائی جاتی ہے setup چلائیں، Next پر کلک کریں، ایگریمنٹ قبول کریں۔

یہاں بھی دو آفتیں ہیں، پہلی یہ کہ یہ نہیں کہا گیا کہ ایگریمنٹ پڑھیں، دوسری یہ کہ آپ ایک بچے پر سافٹ ویئر کی تمام تر قانونی ذمہ داریاں ڈال رہے ہیں جس کے تحت وہ (اور اس کے گھر والے) سافٹ ویئر کی 30 سے 300 ڈالرز کی قیمت ادا کرنے کے نہ صرف پابند ہیں بلکہ متوقعہ نقصانات کے بھی ذمہ دار ہیں…!!

ایک اور مثال جو زیادہ افسوس ناک ہے وہ ایک ماہر کی ہے۔ جو ٹی وی پر سن 2000ء سے کچھ پہلے Y2K بگ پر کچھ اس طرح تبصرہ فرما رہے تھے ’’یہ مسئلہ کمپیوٹر میں تاریخ کو صرف دو ڈیجیٹ پر محفوظ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوگا یعنی 2000، 00 ہوجائے گا اور چونکہ 00 کے بعد 99 کا ہندسہ آئے گا اس لیے تاریخ کے پیچھے چلے جانے کی وجہ سے کمپیوٹر میں ایک خلفشار پیدا ہوجائے گا اور وہ حسابات میں غلطیاں شروع کردے گا۔ جس سے وائرس پیدا ہوسکتا ہے اور اسکرین جل بھی سکتی ہے۔‘‘

کس نے کہا ہے کہ کمپیوٹر کے جذبات ہوتے ہیں اور وہ خود ہی حسابات شروع کردیتا ہے…!! اور یہ کس نے کہا ہے کہ وائرس خود ہی پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ مسئلہ مانیٹر کی پکچر ٹیوپ کو پھٹنے پر مجبور کردے گا … !!

سیٹلائٹ کے ایک چینل میں ایک اور ماہر فرما رہے تھے ’’پہلا آپریٹنگ سسٹم ڈاس ہے جسے مائیکرو سافٹ نے بنایا اور پھر مائیکروسافٹ نے ونڈوز 3.1 اور 1995ء میں ونڈوز 95 بنائی، اور پھر لینکس کمپنی نے ریڈ ہیٹ سسٹم بنایا اور لنڈوز کمپنی نے لنڈوز آپریٹنگ سسٹم جس میں لینکس کی طاقت اور ونڈوز کی سہولت جمع کردی گئی۔‘‘

اس قول شریف میں کم سے کم 6 غلطیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ سب سے پہلا ڈاس مائیکروسافٹ نے نہیں بلکہ IBM نے بنایا تھا وہ بھی ورژن 3.0 تک۔ مائیکروسافٹ نے ڈاس 3.1 بنایا تھا۔ دوم یہ کہ ڈاس سب سے پہلا آپریٹنگ سسٹم نہیں تھا بلکہ اس سے بیس سال پہلے یونکس کا پانچواں ورژن تھا حتیٰ کہ وہ بھی پہلا آپریٹنگ سسٹم نہیں تھا!! سوم یہ کہ ونڈوز 95، 1995ء میں نہیں بلکہ 1993ء میں جاری کی گئی تھی کیونکہ یہ عدالتوں میں پیٹنٹ کیس میں تاخیر کا شکار رہی۔ چوتھا یہ کہ لینکس کمپنی نہیں ہے!! kernel.ORG، linux.ORG، fsf.ORG، gnu.ORG یہاں ہاتھی جتنا ORG انہیں نظر نہیں آیا!! پانچواں یہ کہ ریڈ ہیٹ لینکس کا ورژن نہیں ہے بلکہ ایک ڈسٹرو ہے چھٹا یہ کہ لنڈوز بھی لینکس کی ایک ڈسٹرو ہے جس میں پہلے سے ہی wine شامل ہوتا ہے اور اس کی theme ونڈوز سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی!!
ہنسیں مت، یاد رکھیں کہ ہم جاہل ہیں جنہیں پڑھنا اور سمجھنا پسند نہیں، کیونکہ اگر cancel کے بٹن پر dismiss لکھ دیا جائے تو ہمارے لئے وہ پروگرام مشکل ہوجاتا!! یاد رکھیں کہ ہم چیزوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کہ ہم توقع کرتے ہیں یا جیسا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہوں، یعنی ہم پہلے ہی شرائط رکھتے ہیں۔ ہم مصدر سے زیادہ اشتہارات پر یقین کرنے والی قوم ہیں … !!

فکری پراڈکٹ کی حفاظت کا طریقہ

وقت کے ساتھ ساتھ فکری پراڈکٹ کی حفاظت کے طریقۂ کار میں ترقی ہوئی، جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے یعنی copyright۔ اگر کوئی پراڈکٹ کسی دوسری پراڈکٹ سے مشتق ہے تو ہمیں چاہیے کہ اس کی تفصیلات لکھیں جو کہ ایک لازمی امر ہے، لیکن بعض حالات میں اس کا اثر عکسی یا الٹا ہوتا ہے۔ جس سے بجائے ایجاد کی حوصلہ افزائی کے حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور ایجاد کا دائرہ کار چند لوگوں پر منحصر ہوجاتا ہے جیسے اگر پہلا مصنف (یا ناشر) یہ شرط رکھ دے کہ اگر کوئی اس کی پراڈکٹ سے مشتق کوئی دوسری پراڈکٹ بنانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ پہلے اس سے رجوع کرے۔ ایسا ہم اکثر کتابوں میں بھی لکھا ہوا دیکھتے ہیں جس میں جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ’’مصنف/ناشر کی اجازت کے بغیر کوئی بھی حصہ شائع نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

اکثر ملکوں میں اس کے ریکارڈ رکھے جاتے ہیں، شکایتیں نوٹ کی جاتی ہیں اور نئے نام رجسٹر کئے جاتے ہیں اور شکایتوں پر کاروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اس طریقہ کار میں سب سے بڑی خامی تب نظر آتی ہے جب بعض لوگ عام ناموں کی ملکیت حاصل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص لفظ sport کے حقوق حاصل کر لے تو ہر اس شخص پر لازمی ہوگا جو یہ لفظ لکھنا چاہے کہ وہ پہلے اس شخص سے رابطہ کرکے اجازت حاصل کرے!! اسی قسم کی مشکلات ثقافتی روایات میں بھی ہوسکتی ہیں جیسے اگر کوئی شخص کسی روایتی کہانی کے حقوق حاصل کر لے۔

یہ مسئلہ لینکس کے ساتھ بھی پیش آیا جب ایک کمپنی نے ’’لینکس‘‘ کی ملکیت کا دعوی کیا اور اسے حاصل بھی کر لیا (کیونکہ وہ پہلے سے رجسٹرڈ نہیں تھا) اور پھر ہر اس ادارے سے جو لینکس استعمال کرتا تھا اس سے رجوع کرنے کا مطالبہ کردیا، مگر ایسا ہو نہ سکا کیونکہ بعض درمند وکلاء نے اس کمپنی پر کیس کردیا اور کیس جیت کر لینکس کے حقوق اس کے موجد لینس ٹورزوالڈ کو واپس دلوادیے اسی لئے لفظ لینکس کے بعد (c) لکھا ہوا نظر آتا ہے۔

اس سے زیادہ خطرناک اینڈ یوزر لائسنس ایگریمنٹ ہے جسے مختصراً ایولا EULA کہا جاتا ہے جس میں موجد (یا کمپنی) پراڈکٹ کے استعمال کا لائسنس فروخت کرتی ہے یعنی خریدار نے جو رقم ادا کی ہے وہ صرف پراڈکٹ کو استعمال کرنے کے لئے ہے یعنی اس نے پراڈکٹ نہیں خریدی بلکہ اسے استعمال کرنے کا لائسنس حاصل کیا ہے۔ چنانچہ اسے پراڈکٹ کو فروخت کرنے، کرائے پر دینے یا کاپی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ خریدار پر پراڈکٹ کو استعمال کرنے کی حدیں بھی متعین کی جاتیں ہیں۔ مثال کے طور پر وہ پراڈکٹ کو کھول نہیں سکتا۔ گویا یہ پراڈکٹ ایک طرح سے بلیک بکس یا ’’لوہے کا ڈھیر‘‘ ہے، ذرا سوچیں EULA پر لائسنس شدہ ٹی وی!! میں مذاق نہیں کر رہا۔مثلاً ونڈوز کے ایولا میں لکھا ہے :
You may not reverse engineer, decompile, or disassemble the SOFTWARE PRODUCT
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ونڈوز سسٹم کی تصویر اتارنا (screenshot) بھی غیر قانونی سمجھا جاتا ہے!!! یورپی یونین کے بعض ممالک میں اس قسم کے لائسنسوں کی حدیں متعین کی گئی ہیں اور ان کی بعض شقوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا جیسے کھولنے کی شق۔ اس قسم کے لائسنسوں کے تیسری دنیا کے ممالک پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ کمپنی ہی یہ متعین کرتی ہے کہ لوگوں کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے… جیسے تجربات کرنا، ترقی دینا، یا ترجمہ کرنا، گویا یہ ’’سوچنا منع ہے‘‘ کے قانون کی ہی ایک شکل ہے۔

EULA سے معاملہ اس وقت اور بھی گمبھیر صورتحال اختیار کرلیتا ہے جب اینڈ یوزر کو اپ ڈیٹ کی ضرورت ہو، یعنی اخراجات مستفید کاروں کے اضافے کے ساتھ ہی بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں جو تیسری دنیا کے ممالک پر ایک بوجھ بن جاتا ہے کیونکہ اگر کوئی ملک اپنے کسی ادارے کے 1000 کمپیوٹروں میں مزید 1000 کا اضافہ کرنا چاہے تو اسے ہر کمپیوٹر کی قیمت کے ساتھ ایک عدد EULA لائسنس کی قیمت بھی شامل کرنی ہوگی!! جبکہ غیر قانونی اور جعلسازی کا شکار بھی آخری مستفید کار (اینڈ یوزر) ہی ہوتا ہے جس نے انجانے میں جعلی سی ڈیز خریدیں نہ کہ وہ جعلساز جس نے کہ وہ جعلی سی ڈیزبالکل اصلی بناکر فروخت کیں … اس بیچارے ’’شکار‘‘ نے دو دفعہ قیمت ادا کی… ایک دفعہ جعلساز کو اور ایک دفعہ کمپنی کو۔ ساتھ ہی اسے ’’کریکر‘‘ اور ’’معلومات کے چور‘‘ کا لقب مفت میں ملا۔  جبکہ اصل چور سزا سے بچ گیا کیونکہ وہ ’’اینڈ یوزر‘‘ نہیں ہے کیونکہ ایولا کی شرائط استعمال کرنے پر لاگو ہوتی ہیں اور ’’چور‘‘ نے چونکہ اسے استعمال نہیں کیا چنانچہ وہ اینڈ یوزر نہیں ہے۔

ایولا سے زیادہ پرتشدد طریقہ patents ہے۔ خاص طور پر جو ایجادات سے متعلق ہے جس میں کسی پراڈکٹ کو ترقی دینے، استعمال کرنے حتیٰ کہ ہر اس پراڈکٹ کو جو اس کا استعمال یا اس پر مشتمل ہو کسی ایک شخص یا جنہیں وہ تفویض کرے پر منحصر کردیتی ہے۔
مثلاً اگر کسی شخص نے آواز کو محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ دریافت کرکے اس کا نام A رکھا ہے اور A کو محفوظ کرنے کے لئے کوئی سافٹ ویئر بناکر اسے پیٹنٹ کروالیا ہے تو اگر کسی دوسرے شخص نے بغیر A کو دیکھے آواز محفوظ کرنے کا کوئی مشابہ طریقہ الگ سے دریافت کیا ہے تو اسے سابقہ A کے مالک سے اجازت حاصل کرنی ہوگی … اور اگر کسی نے ٹی وی ٹرانسمیشن کا کوئی طریقہ دریافت کرکے اسے پیٹنٹ کروالیا ہے تو ٹی وی بنانے والی تمام کمپنیوں کو یہ ٹرانسمیشن ریسیو کرنے کی اجازت نہیں ہوگی چاہے وہ یہ طریقہ الگ سے اپنے طور پر ہی کیوں نہ دریافت کرلیں…!!

ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ٹی وی لیتے ہیں جس پر لکھا ہو کہ یہ CNN کو سپورٹ کرتا ہے اور BBC کو نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر اگر کوئی شخص پیٹنٹ شدہ کسی ایجاد کی طرز پر کوئی دوسری چیز بناکر اسے ترقی دینا چاہے تو اسے پہلے فریق سے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ یعنی اگر ہمارے پاس کوئی موجد ہے جو کچھ ایجاد کرنا چاہتا ہے اور اسے نے پہلے فریق سے اجازت حاصل نہیں کی تو وہ ایسا نہیں کرسکتا۔

اس کی ایک آسان مثال یوں ہے کہ ہمیں ".doc” فائلوں کو جو مائیکروسافٹ کے سافٹ ویئر بناتے ہیں کسی دوسرے سافٹ ویئر میں کھولنے کے لئے مائیکروسافٹ سے اجازت حاصل کرنی ہوگی (صرف امریکہ میں)۔

اس کی ایک واضح اور دردناک مثال افریقہ میں ایڈز کی دوائیاں ہیں جہاں غربت کے باوجود وہاں کے ممالک میں اتنی استطاعت ضرور ہے کہ وہ ایڈز کے خلاف ویکسین بنا سکیں… مگر چونکہ یہ دوائیاں  patents ہیں اور ان کے حقوق امریکہ کی بڑی بڑی فارماسوٹیکل کمپنیوں کے پاس ہیں جو افریقہ کے ان غریب ممالک کو یہ ادویات بنانے کی اجازت نہیں دیتیں تاکہ ان کی اجارہ داری اور دولت میں اضافہ جاری رہ سکے… مگر ہنسی تب آتی ہے جب ہم خبروں میں سنتے ہیں کہ امریکہ نے افریقہ کے فلاں ملک کو ادویات یا رقم ڈونیٹ کی ہے جبکہ وہ خود ان کی اس بدحالی اور موت کا سبب ہے، چنانچہ اسی وجہ سے دنیا کے بعض ممالک (امریکہ کے علاوہ) ایسے لائسنسوں اور قوانین کی اس طرح حدیں متعین کرتے ہیں کہ پہلے موجد کا حق بھی قائم رہے اور ایجاد کا عمل بھی نہ رکنے پائے اس ضمن میں یورپی یونین سب سے زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک شخص اپنی شفیق ماں کے ساتھ – ایچ آئی وی ایڈز پر قابو نہ پانے کی ایک وجہ اس کی ادویات کا کلوذ ڈ سورس ہونا بھی ہے

ایسے ٹیڑھے قوانین سے بچنے کے لئے کمپنیاں بھی ٹیڑھا طریقہ اپناتی ہیں جو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ وہی ہوتا ہے، یعنی اسے صفر سے شروع کردیتی ہیں۔ مثال کے طور پر آواز کو محفوظ کرنے کا طریقہ جو mp3 کہلاتا ہے فوریئر سلسلہ پر بیس کرتا ہے یعنی fourier sine series  جو کہ پیٹنٹ ہے، اس کے مقابلے میں ogg ایجاد کیا گیا ہے جو کہ fourier cosine series پر بیس کرتا ہے جو انیس بیس کے فرق سے وہی ہے۔ یہاں ہم نوٹ کرتے ہیں کہ کمپنیاں کچھ نیا ایجاد کرنے کے لئے مقابلہ نہیں کر رہیں بلکہ پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے پر وقت ضائع کر رہی ہیں…!!

اسی طرح اگرmp3 سے مشتق کوئی نئی ایجاد کی ضرورت ہو جیسے mpeg۔ جس میں تصویر کے ساتھ ساتھ آواز بھی محفوظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو mpeg کے موجد کو چاہیے کہ وہ mp3 والوں سے اجازت حاصل کرے ورنہ گونگی تصاویر دکھائے!!
لیکن چونکہ یہاں ایک ہی کمپنی ہے چنانچہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر کوئی اور کمپنی ہوتی تو اسے اجازت کی ضرورت ہوتی اسی لئے ogm معرضِ وجود میں آیا جو ogg. پر مبنی ہے۔ آسان لفظوں میں اگر کسی کمپنی کے پاس کوئی نئی ایجاد ہے جو کسی سابقہ ایجاد پر مبنی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ہر چیز دوبارہ ایجاد کرے، یعنی آج کل کمپنیاں ایک ہی کام بار بار کر رہی ہیں جو ان میں سے کسی ایک کا کرنا ہی کافی ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں جس کے پاس حقوق ہیں صرف اسے ہی سیکھنے کی اجازت ہے ورنہ اسے چاہیے کہ وہ ہر چیز دوبارہ سے ایجاد کرے۔

یہ صورتحال مجھے ان تہذیبوں کی یاد دلاتی ہے جن میں صرف شرفاء کو ہی سیکھنے کے حقوق حاصل تھے جیسے 2000 سال قبل مسیح میں ہندو تہذیب میں صرف شرفاء کو ہی سنسکرت سیکھنے کی اجازت تھی، یا قرونِ وسطیٰ میں یورپ جہاں لاطینی زبان سیکھنے کی اجازت بھی صرف شرفاء کو ہی تھی۔

کھلے دماغ

مذکورہ بالا تمام طریقے پہلے موجد کی تو حوصلہ افزائی کرتے ہیں مگر ایجاد کے تسلسل اور پھیلاؤ کو روک دیتے ہیں، چنانچہ جب موجد کو اپنی ایجاد کا پھیلاؤ مقصود ہوتا ہے تو وہ اسے Open domain یا Public domain میں نشر یا شائع کرتا ہے۔ جیسے ریاضی یا فزکس کے نظریات جن سے استفادہ کسی فرد یا ادارے پر منحصر نہیں ہے، مگر ایولا یا پیٹنٹ پر مبنی تمام تر ایجادات ایسے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں جنہوں نے ریسرچ کے مراکز کے لئے بغیر کسی منافع کے کام کیا، یا وہ حکومتی یا تجارتی اداروں کے ملازم تھے۔ گویا موجد کو پراڈکٹ سے منافع کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ تو ملازم تھا، یا بعض اوقات اسے کسی ادارے یا کمپنی کی طرف سے کسی سابقہ ایجاد سے مشتق کسی نئی ایجاد پر کام کروایا جاتا ہے اور پھر اس ایجاد کو بند (کلوز)کردیا جاتا ہے جس سے سلسلہ وہیں ختم ہوجاتا ہے۔

اس کی ایک اور مثال BSD لائسنس ہے جس میں اوپن سورس پراڈکٹ کو چاہے وہ خام حالت میں ہو یا تیار حالت میں، اس کے اصل موجد سے منسوب کرکے نشر کرنے کی اجازت ہے، مگر اس لائسنس نے ترقی دینے والے ایجاد کاروں پر کوئی حدیں متعین نہیں کیں، یعنی کسی بھی شخص کو کسی مشتق پراڈکٹ کو ترقی دے کر اسے بند (کلوز) کرنے کی اجازت ہے۔ ایسے میں بعض ایسے ادارے بھی سامنے آئے جنہوں نے اوپن یا کھلا کام کیا اور پھر اس سے کمایا بھی۔
جب IBM نے پرسنل کمپیوٹر (PC) بنائے تھے تو اس کا ڈیزائن انہوں نے سب کے لئے نشر کردیا جس کے نتیجے میں بہت ساری ایسی کمپنیاں آئیں جنہوں نے IBM کے PC بنائے اور  IBM سے زیادہ شہرت حاصل کی، حتیٰ کہ Apple آئی بی ایم کے مقابلے میں آکھڑی ہوئی مگر Apple نے اپنے کمپیوٹرز کا ڈیزائن اپنے لئے ہی محفوظ رکھا مگر آخر میں سب سے زیادہ فائدہ IBM کو ہی ہوا اور وہ کمپیوٹر بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی۔ ساتھ ہی اس نے منافع میں بھی سب کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور Apple کا مارکیٹ میں حصہ 5% سے بھی کم رہ گیا حالانکہ  Apple نے ہی سب سے پہلے پرسنل کمپیوٹر بنایا تھا۔

بہرحال کھلی (اوپن) کامیابی کے یہ قصے انفرادی ہی رہے خاص طور پر جبکہ مذکورہ بالا لائسنس یعنی Public Domain اور BSD غیر مقید آزادی رکھتے تھے!! یعنی ایک پراڈکٹ کو اس سے مشتق دوسری پراڈکٹ میں جس میں کوئی جوہری تبدیلی یا محنت نہیں ہوتی تھی ڈال کر بند کردیا جاتا تھا۔
یہ صورتحال ایسے ہی چلتی رہی حتیٰ کہ www.fsf.org معرض وجود میں آئی یعنی Free Software Foundation جسے گِنو www.gnu.org بھی کہا جاتا ہے یعنی GNU is Not Unix جس کی بنیاد ڈاکٹر Richard M. Stallman نے رکھی اور جس نے آزاد سافٹ ویئر (صرف سافٹ ویئر نہیں بلکہ دستاویزات، مشینری، اور اوپن سورس ادویات)  کا مفہوم بدل کر اوپن سورس دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی اور GPL یعنی General Public License وضع ہوا جو کسی بھی پراڈکٹ کا سب سے زیادہ پھیلاؤ کا ضامن ہے۔

جس کا فلسفہ یہ ہے کہ کسی بھی سافٹ ویئر کا کوئی بھی مالک نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کے نشر کے حقوق ہونے چاہئیں… اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کسی بھی ملک پر یہ زور نہیں دیا کہ وہ سافٹ ویئر کی ملکیت یا نشر کے حقوق ختم کریں بلکہ یہ تجویز کیا کہ کسی بھی سافٹ ویئر کا موجد جو ایف ایس ایف پر یقین رکھتا ہو یہ اعلان کر سکتا ہے کہ اس کا سافٹ ویئر جی پی ایل سے مشروط ہے جو کہ خریدار کو اپنی خریدی ہوئی چیز پر مکمل حق دیتا ہے جس کے تحت وہ اسے کاپی کرسکتا ہے، فروخت کرسکتا ہے، کرایہ پر دے سکتا ہے، یا گفٹ کرسکتا ہے، حتیٰ کہ اسے پہلے موجد سے رجوع کیے بغیر ترقی دے سکتا ہے کیونکہ خریدار نے اس کی قیمت ادا کردی ہے اور اسے سوائے ایک شرط کے کوئی اور شرط پابند نہیں کرسکتی اور وہ واحد شرط یہ ہے کہ خریدار اس سے مشتق دوسری ایجادات کا سورس کوڈ نہیں چھپائے گا اور انہیں بھی (مشتق ایجادات کو) جی پی ایل لائسنس کے تحت ہی رکھے گا اور انہیں (سورس کوڈ یا شفاف دستاویز کو) اخراجات کی قیمت پر (یا انٹرنیٹ پر) دستیاب کرے گا اور سابقہ تمام تر موجدوں کی محنت کا اعتراف کرے گا۔

یہاں شفاف دستاویز سے مراد کسی بھی ایجاد کا ڈیزائن یا اس کے نقشہ جات وغیرہ ہیں جیسے اگر بات کسی کتاب کی ہو رہی ہو تو شفاف دستاویز وہ ٹیکسٹ فائل ہوگی جس میں سب سے پہلے متن قابلِ ترمیم حالت میں لکھا گیا تھا یعنی txt یا XML/DocBook یا پھر html جبکہ سورس کوڈ سے مراد وہ کوڈ ہے جو کہ کسی بھی پروگرام کی بنیاد ہوتا ہے جسے انسان اور مشین دونوں سمجھ سکتے ہوں مگر پراڈکٹ کی تیار حالت سورس کوڈ نہیں سمجھی جاتی جیسے کتاب کے کاغذ یا pdf/exe فارمیٹ وغیرہ…یہ لائسنس موجد کو کمانے اور اپنی پراڈکٹ کو فروخت کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسے اس کا سورس کوڈ چھپانے سے روکتا ہے جس کا فلسفہ ہے ’’آپ نے جو خریدا ہے آپ اس کے مالک ہیں۔‘‘

چونکہ گِنو کے سافٹ ویئر کی کوالٹی تجارتی سافٹ ویئر سے بہتر ہے چنانچہ آہستہ آہستہ مستقبل قریب میں کمپنیاں نہ صرف گِنو کے لائسنس کو اپنائیں گی بلکہ گِنو کے سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے اسے ترقی بھی دیں گی بجائے اس کے کہ وہ پہیہ دوبارہ سے ایجاد کرنے پر وقت ضائع کریں… چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو کمپنیاں یہ لائسنس لاگو نہیں کریں گی انہیں خریدار ملنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ خریدار ایسی چیز کیوں خریدے گا جس کی ملکیت اسے منتقل نہ ہو جبکہ دوسری طرف اس سے اچھی پراڈکٹ ملکیت کے مکمل حق کے ساتھ اس کے لئے دستیاب ہوگی…!!

گِنو کے علاوہ کم آزادی والے بھی کچھ لائسنس سامنے آئے مگر وہ تجارتی دنیا میں زیادہ مقبول ہیں جیسے www.trolltech.com کا QT لائسنس جس میں کہا گیا ہے کہ پراڈکٹ کا غیر تجارتی استعمال مفت جبکہ تجارتی استعمال کے لئے لائسنس کا ہونا لازمی ہے یعنی shareware دوسری طرف بہت ساری ویب سائٹس اوپن سورس پروجیکٹس کے لئے مفت ہوسٹنگ فراہم کرتی ہیں جن میں سرِفہرست www.sourceforge.net ہے (مختصراً www.sf.net) اور اب تو بہت سارے انسائیکلوپیڈیا بھی گِنو کے لائسنس یافتہ ہیں جن میں سب سے سرِفہرست www.wikipedia.org ہے جو گِنو کے لائسنس FDL کے تحت اس میں مضامین کے اضافے اور ان سے اقتباس کی مکمل اجازت ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں شامل مضامین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے…!!

ہم مسلمانوں کے لئے یہ آئیڈیا نیا نہیں ہے کہ بخاری شریف کی ایک حدیث کے مطابق ’’جو علم چھپائے گا اسے روزِ قیامت آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔‘‘ (صحیح الجامع حدیث نمبر 6517)

شاید اسی نظریے کے تحت بہت ساری اسلامی کتابوں پر بھی لکھا ہوتا ہے کہ ’’ہر مسلمان کو نشر کی اجازت ہے‘‘ اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے مگر ساتھ میں کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ اس کا طریقہ کار کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی قانونی دستاویز (جو قانون دانوں نے لکھی ہو) جو اس ’’حق‘‘ کی وضاحت کرتی ہو، کیونکہ پھر تو کوئی بھی بغیر اصل مصنف کا نام لئے اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اسے اپنے نام سے شائع کرسکتا ہے…!!

نقل یا کاپی کرنے کی اجازت لازمی ہونی چاہیے مگر اصل مصنف (جس نے خام مال تیار کیا ہے) کے ذکر کی حد ضرور ہونی چاہیے… ماضی میں علم کے بدلے میں مال لینے کی اجازت نہیں تھی یعنی مال نقل کی اجرت ہوتی تھی… چنانچہ معلم پر مال لینے کی پابندی تھی کہ حکومتِ وقت اس کی کفالت کرتی تھی، مگر آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ معلم تعلیم کے لئے فراغت حاصل کرلیتا ہے اور اس کے روزگار کے لئے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا اس لئے وہ اس کے بدلے میں مال لیتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مال علم کی قیمت ہے بلکہ معلم کی محنت اور وقت کی قیمت ہے۔ گویا متعلم (سیکھنے والا) کو علم (خام یا سورس) بغیر معلم کی اجازت لئے نشر کرنے کی مکمل اجازت ہے اور یہی آزاد مصدر کا اصل فلسفہ ہے۔

آزاد ادارے بھی کماتے ہیں

لوگوں کے ذہن میں یہ بات قائم ہے کہ اگر کوئی ادارہ آزاد مصدر کو بنیاد بناکر کوئی پروجیکٹ شروع کرے گا تو وہ کبھی کام یاب نہیں ہوگا… حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اوپن سورس تحریک یہ نہیں کہتی کہ آپ اپنا سرمایہ سمندر برد کردیں۔ اگر آزاد مصدر تحریک میں کمانے پر پابندی ہوتی تو یہ آئیڈیا ہی نہ پنپنے پاتا اور کب کا ناپید ہوچکا ہوتا۔ کیونکہ پھر وہ عملی سے زیادہ جذباتی فکر ہوتی مگر بہت سارے ادارے اوپن سورس کو بنیاد بناکر کام کر رہے ہیں اور کما بھی رہے ہیں کیونکہ وہ خیراتی ادارے بہرحال نہیں ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ یہ ادارے کس طرح کماتے ہیں؟ کیونکہ خریدار پراڈکٹ خرید کر اسے مفت تقسیم کرسکتا ہے یا بہت ارزاں نرخوں میں فروخت کرسکتا ہے۔

اصل میں اوپن سورس میں کمائی کا اصل ماخذ بعد از فروخت سروس ہے ناکہ پراڈکٹ کی قیمت جو کسی طالب علم یا کسی چھوٹی سی دکان کو فروخت کی گئی ہو، بلکہ بڑی بڑی کمپنیاں اور حکومتی ادارے ان کی کمائی کا اصل ذریعہ ہیں جو ایک تو کثیر تعداد میں پراڈکٹ خریدتی ہیں دوسرا انہیں بعد از فروخت سروس کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں فنی اور عملی سپورٹ بھی شامل ہے۔ جیسے کسی ادارے کے ملازمین کو پراڈکٹ کے استعمال کی تربیت دینا، کورس کروانا وغیرہ شامل ہیں۔

ظاہر ہے کہ اب یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ اس طرح کی سپورٹ تو کوئی بھی تیسرا شخص یا ادارہ دے سکتا ہے (کیونکہ اصل پراڈکٹ اوپن سورس ہے) لیکن یہ بات قطعی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ جس نے جو چیز بنائی ہے وہ اس کے بارے میں کسی بھی تیسرے شخص سے بہتر جانتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ لینکس کے بڑے بڑے اداروں کی شروعات ایک کمرے، چند کمپیوٹر اور چند ماہرین سے شروع ہوئی جیسے ریڈ ہیٹ جو اب ایک عالمی اور بڑی کمپنی ہے یا مینڈریک (جو اب مینڈریوا ہے) جو چند سال قبل بند ہونے کو تھی مگر آج اس کا سرمایہ تین ملین یورو سے متجاوز ہے…!! اس کے علاوہ مینڈریک کو مینڈریک کلب اور ڈی وی ڈی کی فروخت سے بھی اچھا خاصہ سرمایہ حاصل ہوتا ہے۔

ریڈ ہیٹ لینکس اوپن سورس ہونے کے باوجود ایک منافع بخش آپریٹنگ سسٹم ہے

اور صرف کمپنیاں ہی اوپن سورس پروجیکٹ شروع نہیں کرتیں بلکہ حکومتیں (.gov) یونیورسٹیاں اور علمی ریسرچ کے مراکز(.edu) بھی اس میں شامل ہیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اوپن سورس کمیونٹی میں نئے پروجیکٹ شروع کرنا ہی کمائی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ مقامی طور پر بھی پروجیکٹ شروع کرکے کمایا جاسکتا ہے … مثلاً اگر کوئی پاکستانی کمپنی اردو لینکس پروجیکٹ شروع کرے تو وہ باہر کی کسی بھی کمپنی سے زیادہ کمائے گی کیونکہ وہ اردو کے مزاج سے سب سے زیادہ واقف ہے … !! اور چونکہ سب کچھ اوپن سورس ہے چنانچہ اسے یہ جاننے میں قطعی کوئی مشکل نہیں ہوگی کو وہ ایسا کیسے کرے۔
اس کے لئے بہت سارے اداروں کی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں کہ جنہوں نے اوپن سورس پروجیکٹ شروع کیے اور ان سے کمایا بھی جیسے IBM، SGI، Redhat، Sun اور HP حتیٰ کہ اوپن سورس کے بڑے بڑے دشمن بھی اوپن سورس کا استعمال اور اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ اوپن سورس براؤزر موزائیک کے کوڈ کا کچھ حصہ مائیکروسافٹ کے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں شامل ہے…!! دیکھیے انٹرنیٹ ایکسپلورر کا about۔ چنانچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اوپن سورس تحریک ہی تیسری دنیا کا آخری سہارا ہے۔

مثالیں

اوپن سورس کی مزید وضاحت کے لئے میں (مجازی طور پر) سافٹ ویئر کو کھانے سے تشبیہ دوں گا … تجارتی سافٹ ویئر ان کھانوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں جن کی ریسپی ایک ’’راز‘‘ ہوتی ہے جس پر مذکورہ ڈش بنانے والی کمپنی فخر کرتی ہے اور ایسی بہت ساری کمپنیاں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں (ایڈیٹر کے ڈر سے نام نہیں لوں گا)۔
بادی النظر میں یہ ایک اچھی بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی کمپنی اپنی کوئی خاص ڈش رکھتی ہے جسے صرف وہ ہی بنا سکتی ہے اور اس کی فروخت سے بھرپور کماتی بھی ہے مگر کبھی آپ نے اس ’’ڈش‘‘ میں بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نمک کی مقدار پر غور کیا ہے … یا اگر کوئی میٹھی ’’ڈش‘‘ ہے تو اس میں شوگر کے مریضوں کے لئے خطرناک شکر کی مقدار پر غور کیا ہے … یا دل کے مریضوں کے لئے مضر چکنائی کی مقدار پر سوچا ہے…؟؟

اس کھانے کو خریدنے کے بعد آپ اس کے ڈبے پہ لکھی ہوئی معلومات پر یقین کرنے پر مجبور ہیں … اس پر طرہ یہ ہے کہ یہاں ایک عدد EULA بھی کارفرما ہے جو یہ کہتا ہے کہ آپ نے جو رقم اس کھانے کے عوض ادا کی ہے وہ صرف اس کے طبعی استعمال یعنی صرف کھانے کے لئے تھی اور آپ کو اس ’’ڈش‘‘ کو تحلیل کرنے اور یہ جاننے کی کوشش کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے کہ یہ ڈش کن مرکبات پر مشتمل ہے …یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈبے پر لکھی ہوئی معلومات (انگریڈینٹ) ترویجی مقاصد کے لئے غلط ہوں۔
مثال کے طور پر ہوسکتا ہے کہ فیٹ کی مقدار جو ڈبے پر لکھی ہوئی ہے وہ غلط ہو، تاکہ ان خواتین کی توجہ حاصل کی جاسکے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر حکومت کے متعلقہ اداروں کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اس ڈش کی جانچ پڑتال کرسکیں کہ یہ آخر کن مرکبات پر مشتمل ہے یعنی یہاں اجازت صرف اور صرف کھانے کی ہے۔

اس کے مقابلے میں اوپن سورس سافٹ ویئر ان روایتی کھانوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ریسپی ہر کوئی جانتا ہے… انٹرنیٹ پر ہر دوسری ویب سائٹ پر یہ ریسپیز اور ان کو بنانے کا طریقہ دستیاب ہوتا ہے، اور جو ان میں تبدیلی کرتا ہے (یا ترقی دیتا ہے) اس پر لازم ہے کہ وہ اس کا ذکر کرے اور بتائے کہ اس نے اس ڈش میں کس طریقے سے تبدیلی کی اور اسے پیش بھی کرنے کاپابند ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ روایتی تیار ڈش خریدنے کی استطاعت نہیں ہے تو آپ اس کی ترکیب (سورس کوڈ) دیکھ کر اسے گھر پر بناسکتے ہیں۔
فرض کرتے ہیں کہ ہوٹل ’’س‘‘ ایک آزاد مصدر ہوٹل ہے اور اس نے ایک اپنی ’’ڈش‘‘ ایجاد کرکے اس کا نام بھی ’’س‘‘ رکھا ہے اور اس ڈش کی ریسپی لکھ کر (جی پی ایل کے تحت) ہوٹل کے دروازے پر (جیسے انٹرنیٹ پر) آویزاں کردی ہے۔

ہوٹل ’’س‘‘ کے بالکل سامنے واقع ہوٹل ’’ص‘‘ بھی ہے جسے ہوٹل ’’س‘‘ کی ایجاد کردہ یہ ڈش بنانے کی اجازت ہے (کیونکہ وہ اوپن سورس ہے اور اس کی ریسپی دستیاب ہے) مگر اس کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ ڈش اصل میں ’’س‘‘ کی ہے…یہاں آپ یہ ڈش خود بناسکتے ہیں یا اس ڈش کے اصل موجد ہوٹل ’’س‘‘ سے خرید سکتے ہیں، یا اگر چاہیں تو ہوٹل ’’س‘‘ کی یہ ڈش آپ ہوٹل ’’ص‘‘ سے بھی خرید سکتے ہیں جو غالباً یہ ڈش ارزاں نرخوں پر فروخت کر رہا ہے۔ لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہوٹل ’’س‘‘ کی ڈش، ہوٹل ’’ص‘‘ کی ڈش سے زیادہ اچھی اور بہتر کوالٹی کی حامل ہوگی کیونکہ وہی ڈش کا موجد ہے جو اسے بہتر سمجھ سکتا ہے اور بہتر طور پر تیار کرسکتا ہے۔ ہوٹل ’’س‘‘ ہوٹل ’’ص‘‘ کو اس ڈش کو بنانے کی تربیت دینے پر فیس بھی وصول کرتا ہے، چنانچہ اس طرح ہر کوئی فائدہ میں ہے۔

فلسفہ اور مغالطہ

اوپن سورس اور معلومات کے تبادلے کا یہ نظریہ کمپیوٹر کی ایجاد کے وقت سے موجود ہے، حتیٰ کہ تجارتی پیمانوں پر بھی (مثلاً جب کوئی کمپنی کسی دوسری کمپنی سے زیادہ اپنی پراڈکٹ کا پھیلاؤ چاہتی ہو) جیسے اوپن سورس X جسے کوئی بھی کمپنی پراڈکٹ کو ترقی دینے کے لئے رقم ادا کرتی ہے لیکن لازمی نہیں ہے کہ نئی پراڈکٹ اوپن سورس ہو (غالباً ہوتی بھی نہیں ہے) مگر اوپن سورس کا نظریہ واقعتا GNU پروجیکٹ میں ڈاکٹر Richard Stallman کے ہاتھوں سامنے آیا (پروجیکٹ کی شروعات 1998ء میں GNU EMACS سے شروع ہوئی) مگر یہ نظریہ اس سے تھوڑا سا پہلے ITS نیٹ ورک کے ذریعے موجود تھا جو 1982ء میں ختم ہوگئی۔ چنانچہ ڈاکٹر رچرڈ نے اوپن سورس فکر کو ناپید ہونے سے بچانے کے لئے سوچنا شروع کیا جو بالآخر FSF اور اس کے فلسفہ پر منتج ہوا۔

ہر آئیڈیالوجی کی طرح اس فکر کے دشمنوں کا ہونا بھی ایک لازمی امر تھا۔ جن کا مفاد اس کے نہ ہونے میں پنہاں تھا، چنانچہ کہا گیا کہ اوپن سورس (یعنی مصدر کا پھیلاؤ) کی جگہ سوویت یونین میں ہے نا کہ financial دنیا میں (ڈاکٹر رچرڈ امریکی ہیں)۔
اس پر ڈاکٹر رچرڈ کا جواب تھا کہ اوپن سورس تحریک دوسروں کی مدد کرنے پر لوگوں مجبور نہیں کرتی بلکہ آزادی پر یقین رکھتی ہے کہ اگر کوئی کاپی کرنا یا حصہ لینا چاہے تو وہ حصہ لے سکتا ہے اور اس میں آزاد ہے (کمیونزم کا نظریہ لوگوں کو حصہ لینے پر مجبور کرنا ہے) اور کہا کہ کمیونزم سے زیادہ قریب SPA ہے جو کہ سافٹ ویئر بنانے اور نشر کرنے والوں کا اتحاد ہے کیونکہ وہ:

1)  ذرائع ابلاغ میں یہ تصور پھیلانے پر خطیر رقم خرچ کرتے ہیں کہ کسی دوست کو سافٹ ویئر کی کاپی دینا غلط ہے۔
2)  یہ التماس کرتے ہیں کہ طلبا اپنے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی اور ملازمت پیشہ طبقہ اپنے اداروں کی اور ہر کوئی اپنے جاننے والوں کے بارے میں اطلاع دے اگر ان میں سے کوئی سافٹ ویئر کاپی کرتے ہوں۔
3)  پولیس کی مدد سے چھاپے مارنا اور لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں۔
4)  افراد اور اداروں پر کیس کرنا اگر وہ سافٹ ویئر کی کاپی کرتے پائے گئے یا کاپی کے آلات کی حفاظت نہ کی۔
یہ پالیسی سوویت یونین کی پالیسی سے زیادہ مختلف نہیں ہے جہاں کاپی کے آلات پر سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے تھے اور انہیں حاصل کرنے پر پابندی تھی (صرف تھوڑے سے فرق کے ساتھ کہ پہلی کی وجہ سرمایہ حاصل کرنا ہے) ڈاکٹر رچرڈ کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کی آزادی میں کھلی دخل اندازی ہے۔

ذرائع ابلاغ کو کریکنگ، چوری، نقصان، نیٹ ورک کے راز، کی اصطلاحات سے پْر کرنے کا مقصد سافٹ ویئر پر سے معنوی قسم کی فزیکل صفات کا خاتمہ کرنا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مادی اجسام میں سے کوئی شخص اگر کوئی چیز کسی دوسرے شخص کو دیتا ہے تو سافٹ ویئر کی کاپی کے برعکس لازم ہے کہ وہ پہلے شخص کے پاس نہیں رہے گی۔ یعنی دوسرے شخص کو منتقل ہوجائے گی۔مثلاً کسی گاڑی کی چابی کی کاپی بنوانے کے لئے لازم ہے کہ نہ صرف خام مال اور مشینری موجود ہو بلکہ اسی طرح کی عمل کاری بھی عمل میں لائی جائے جس طرح کہ اصل چابی بنانے والی کمپنی نے کی تھی جس پر یقینا خرچ بھی آئے گا چنانچہ رقم کی ادائیگی کسی خاص چیز (مادی) کے حصول کے لئے کی گئی، جبکہ اس کے برعکس سافٹ ویئر کی نقل (کاپی) کرنے کے لئے کسی خام مواد کی ضروت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے موجودات اور سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کا سرمایہ سلب ہوتا ہے۔
کمپنیاں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہیں ’’نقصان‘‘ ہوتا ہے… وہ کاپی کی وجہ سے ’’اقتصادی نقصان‘‘ کی بات کرتی ہیں جو اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہر وہ شخص جو ان کے سافٹ ویئر کی غیر قانونی (کریکڈ) کاپی رکھتا ہے وہ ان سے اصل کاپی خریدنے کی رغبت اور استطاعت رکھتا ہے۔

بعض سافٹ ویئر بنانے والے ادارے آزاد سافٹ ویئر کے فلسفے پر حملہ کرتے ہوئے قانون کا سہارا لیتے ہیں جس پر ڈاکٹر رچرڈ کہتے ہیں کہ FSF قانون کے تحت ہی ہے، لیکن جب بات اخلاقیات کی ہورہی ہو تو یہ یاد دلانا لازمی ہے کہ قانون یہ نشاندہی نہیں کرتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، مثال کے طور پر بیسویں صدی کی پچاس کی دہائی میں امریکی قانون کالوں کو بس کی اگلی سیٹوں پر بیٹھنے سے منع کرتا تھا!!
سافٹ ویئر بنانے والے ادارے ’’مصنف کے طبعی حق‘‘ کے اعتراف پر زور دیتے ہیں اور یہ کہ سافٹ ویئر مصنف کی انتھک محنت اور ریسرچ کا نتیجہ ہے اور یہ سافٹ ویئر اس کے لئے ’’اولاد‘‘ کی سی حیثیت رکھتا ہے چنانچہ وہ اس کے سورس کوڈ سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ وہ اس کی روح کا ایک حصہ ہے، لیکن اگر ہم یہ جان لیں کہ سافٹ ویئر کی مالک دراصل کمپنی ہے ناکہ وہ پروگرامر جس نے اسے بنایا ہے گویا پروگرامر تنخواہ کے بدلے میں اپنی روح سے دستبردار ہوگیا …!!

یعنی یہ صرف ایک جذباتی حربہ ہے جسے کمپنیاں اپنے مفاد کے لئے پھیلاتی ہیں اور اپنے مفاد کے لئے ہی اس سے مکر جاتی ہیں، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مصنف کا حق تمام تر لوگوں سے زیادہ اہم ہے۔ ہمیں بھی مصنف سے ہمدردی ہے اور لوگوں کو واقعی مصنف سے اور زیادہ ہمدردی ہوتی اگر یہ مادی آئیڈیالوجی پر مبنی ہوتا جس میں کسی مادی چیز کا کسی دوسرے کے پاس منتقل ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ پہلے کے پاس مفقود ہوجائے گی مگر سافٹ ویئر کے ساتھ معاملہ بالکل مختلف ہے۔
سافٹ ویئر کو کاپی کرنے سے وہ مصنف کے پاس سے غائب نہیں ہوگا گویا یہ طبعی حق نہیں بلکہ مکتسب (زبردستی) حق ہے اور فکری ملکیت کے قوانین کاپی کرنے اور تعاون کرنے کے اس طبعی حق کو مقید (پابند) کردیتے ہیں۔

تجارتی سافٹ ویئر بنانے والے ادارے سافٹ ویئر کے وجود اور عدم وجود کا موازنہ ان پر اپنی ملکیت سے کرتے ہیں، یعنی ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں… یا تو ہمارے پاس ان کی ملکیت رکھنے والے سافٹ ویئر ہوں یا نہ ہوں… یعنی مزید سافٹ ویئر کا وجود ان کی ملکیت کے مفادات پر منحصر ہے۔
سافٹ ویئر کی ملکیت کا نظریہ انتہائی برا اور تباہ کن ہے (بقول ڈاکٹر رچرڈ کے) کیونکہ اس کی بنیاد پراڈکٹ کی فروخت نہیں بلکہ معلومات چھپانا ہے… جبکہ اوپن سورس کے تحت سورس کوڈ مہیا کرنا آپ کو سافٹ ویئر کو ترقی دینے اور اسے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا حق دیتا ہے اور آپ کو پابند کرتا ہے کہ آپ اسے آگے بڑھائیں اور شیئر کریں۔

اس کے مقابلے میں EULA ایک غیر منصفانہ اور پْرتشدد قسم کا ایگریمنٹ ہے جس میں آپ کو کمپنی کی طرف سے پیش کی گئی ہر چیز کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرنا ہوگا اگر ہم 2000 کا مسئلہ یاد کریں جس پر کمپنیوں نے کہا تھا کہ ان کے سافٹ ویئر اس مسئلہ سے مبرا ہیں تو آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آپ اس گری ہوئی بات پر یقین کریں… اور اگر اس کے برعکس نتائج نکلیں (حالانکہ ایگریمنٹ تمام تر نتائج کے اظہار سے منع کرتا ہے) تو پھر بھی آپ کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے چاہے آپ کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوا ہو اور نہ ہی آپ خود سے غلطی کو دور کر سکتے ہیں سوائے اپنی قسمت کو کوسنے کے!!

شریعت کا مؤقف

مضمون کے اس حصے کا مقصد کوئی فتویٰ دینا نہیں ہے اور نہ ہی ہم خود کو اس کا اہل سمجھتے ہیں، مقصد اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ اس ضمن میں بعض معاملات پر روشنی ڈالی جائے اور بعض صورتوں کو واضح کیا جائے۔
ارشاد پاک ہے… ’’وتعاونوا علی البر والتقوی۔‘‘
 ترجمہ: ’’نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔‘‘
مگر فکری ملکیت کے حقوق اور EULA نہ صرف لوگوں کو اپنی خریدی ہوئی چیزوں پر تصرف کی آزادی نہیں دیتے بلکہ انہیں شیئر کرنے پر بھی قد غن لگاتے ہیں۔ فکری ملکیت کے حقوق کے تحت چھپنے والی کتابوں کے کسی بھی حصے سے آپ اقتباس نہیں کرسکتے بلکہ انہیں زبانی بھی نقل نہیں کرسکتے (جیسے nondisclosure agreement)۔

فکری ملکیت لوگوں کے حقوق سے زیادہ سافٹ ویئر بنانے والے اداروں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، اور نہ صرف مبالغہ آرائی کی حد تک آپ کو معلومات اپنے دماغ میں بھی محفوظ کرنے سے روکتی ہے بلکہ بغیر ناشر کی اجازت لئے سوچنے سے بھی منع کرتی ہے (جیسے عکسی انجینئرنگ کی شق)۔ مختصراً ملکیت کے حقوق لوگوں کو آپس میں تعاون کرنے سے روکتے ہیں… مثلاً ایولا کے تحت چاہے آپ کو یقین ہو کہ آپ کا دوست سی ڈیز کی کاپی نہیں کرے کا آپ اسے نہیں دے سکتے۔

اس معاملے پر دوسری طرف سے نظر ڈالتے ہیں… ہم نے اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے جو علم کو چھپانے کی اجازت نہیں دیتی اور وہ صحیح بھی ہے۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ ماضی میں علم کے بدلے میں مال لینے کی اجازت نہیں تھی بلکہ مال وقت اور محنت کے بدلے میں دیا جاتا تھا اور حکومت تعلیم کی کفالت کرتی تھی، اگرچہ یہ نظریہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا جس کی ایک اہم وجہ حقیقت پسندی ہے کیونکہ اقدار تبدیل ہوگئی ہیں اور تاکہ ہم پر جمود کا الزام عائد نہ ہو۔
سافٹ ویئر بنانے اور ملکیت رکھنے والی کمپنیاں لوگوں کو نام نہاد ’’اقتصادی نقصان‘‘ سے ڈراتی ہیں تاکہ پروگرامنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری حاصل کرسکیں۔ وہ لوگوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں ’’عوامی مفاد‘‘ میں معلومات چھپانے کا حق دیا جائے (گویا ان کا مفاد ہی عوامی مفاد ہے)۔

ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ درست نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر رچرڈ کہتے ہیں۔ ان کا پروجیکٹ (UNISCO کی حمایت سے) اب عالمی ضرورت بن گیا ہے۔ آزاد اداروں کو پیٹنٹ کے قوانین اور  nondisclosure agreement کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی ملکوں اور اداروں کو بار بار ایک ہی چیز کی ایجاد پر وقت ضائع کرنے پر بھی نقصانات کا سامنا ہے (ہر کوئی بجائے کچھ نیا ایجاد کرنے کے وہی عمل بار بار دُہرا رہا ہے کیونکہ اصل کلوزڈ ہے) چنانچہ ہمیں حقیقی اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے جس کی نظرِ ثانی پر پھر سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

فروخت (بیع) دو قسم کی ہوتی ہے، کسی چیز (پراڈکٹ) کی فروخت اور منفعت (سروس) کی فروخت (جیسے کرایہ پر دینا) لیکن ایک اجازت نامہ EULA فروخت کرنا جس میں کسی چیز کے استعمال پر شرائط عائد کی گئی ہوں اور جسے سافٹ ویئر بنانے والے ادارے فروخت کرتے ہیں نہ تو یہ ہے اور نہ وہ…!! کیونکہ وہ صارف کو سی ڈیز اس طرح فروخت نہیں کرتے کہ صارف اس کے تصرف پر آزاد ہو (کاپیاں بنانا، تقسیم کرنا) اور نہ ہی وہ صارف کو سافٹ ویئر فروخت کرتے ہیں کیونکہ وہ غیر مادی ہے (جو حوالے نہیں کیا جاسکتا) نہ ہی وہ سپورٹ سروس فروخت کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ سپورٹ فروخت کرتے تو کاپی کی اجازت دیتے کیونکہ اس سے سپورٹ کے طالبین میں اضافہ ہوتا، بلکہ یہ ایک طرح سے کرایہ پر دینے کے مشابہ ہے (صارف کو سی ڈیز دے دی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری ہیں اور آپ اسے ایگریمنٹ کے مطابق استعمال کریں گے)

مگر کرایہ کے ایگریمنٹ کے تمام تر بنیادی شرائط سے بالکل عاری ہے مثلاً کرایہ ہر معینہ مدت (عموماً ہر ماہ) کے بعد ختم تصور کیا جاتا ہے اور کرایہ دار پر لازم ہوتا ہے کہ وہ کرایہ دوبارہ ادا کرے (اگر اسے مزید سروس کی ضرورت ہو) لیکن اس میں رقم صرف ایک بار وصول کی جاتی ہے…!! چنانچہ یہ کرایہ بھی نہ ہو…؟؟ اس میں یہ بھی ہے کہ اجرت ماجور کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے یعنی سی ڈی اور کاپی کی اجرت ایک ڈالر سے کہیں کم ہے مگر EULA کی قیمت 50 ڈالر سے کئی ہزار ڈالر تک ہے…!!
حرام فروخت میں کسی چیز کو جیسا ہے جہاں ہے (لوہے کا ڈھیر) کی بنیاد پر فروخت کرنا ہے جیسے کہ اگر کوئی شخص (عام شخص ناکہ تاجر) کوئی پرانا ٹی وی خریدنے ٹی وی کی دکان پر جاتا ہے اور دکان دار سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ ٹی وی چلتا ہے؟ تو اگر دکاندار یہ کہے کہ ’’اسے جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر لے جائیں۔‘‘ تو یہ غلط ہوگا… دکاندار کو کہنا چاہیے ’’یہ چلتا ہے اسے جیسے چاہیں میری دکان میں چیک کر لیں۔‘‘ یا ’’یہ خراب ہے اور اس میں فلاں فلاں خرابی ہے۔‘‘ یا ’’مجھے نہیں معلوم جسے چاہیں اسے چیک کرنے کے لئے لے آئیں۔‘‘

فروخت ملکیت کی منتقلی ہوتی ہے اور خریدار کو مکمل حق دیتی ہے کہ وہ اس چیز کو جیسے چاہے استعمال کرے، فروخت کرنے والے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کے استعمال کا طریقہ کار متعین کرے، مثلا کہے ’’میں تمہیں یہ چیز فروخت کر رہا ہوں مگر تمہیں اسے کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ یا ’’تمہیں یہ چیز اتنے بجے سے لے کر اتنے بجے تک استعمال کرنی ہے۔‘‘ یہ گویا عکسی انجینئرنگ سے روکنے کے مترادف ہے، یا کہے کہ ’’خرابی کی صورت میں اسے صرف فلاں سے مرمت کروانا ہے وہ بھی فلاں کی متعین کردہ قیمت پر۔‘‘
یہ سورس فراہم نہ کرنے سے مشابہ ہے چنانچہ آپ پروگرام کو دوبارہ تیار یا پہلے سے موجود پروگرام کو ترقی نہیں دے سکتے ماسوائے اس کے کہ جس کے پاس اس کا سورس کوڈ ہے اور جس کے پاس جاکر بنوانے کی اجازت ہے یعنی صرف کمپنی، چنانچہ ملکیت کی منتقلی پر لازم ہے کہ نہ صرف چیز کے استعمال کی مکمل آزادی دی جائے بلکہ اس کا سورس کوڈ بھی فراہم کیا جائے۔

کوئی ایسی پراڈکٹ فروخت کرنا بھی جائز نہیں کہ جس سے اس کے لوازمات کے بغیر استفادہ نہ کیا جاسکے یا اسے سپْرد نہ کیا جاسکے جیسے سمندر میں مچھلی فروخت کرنا یا گندم کے دانے ایک ایک کے حساب سے فروخت کرنا، یا گاڑی کو بغیر چابی کے فروخت کرنا یا گاڑی ایک ڈالر میں اور چابی ہزار ڈالر میں فروخت کرنا…!!
یہ ایسا ہے جیسے کمپیوٹر کو بغیر آپریٹنگ سسٹم کے (جو آپریٹنگ سسٹم کے بغیر چلتا ہی نہیں) ارزاں نرخوں پر فروخت کرنا اور آپریٹنگ سسٹم اس سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا یا پھر پرنٹر بغیر ڈرائیور کے فروخت کرنا یا کلوزڈ سورس ڈرائیور فروخت کرنا (پرنٹر کے کام کرنے کے لئے لازم ہے کہ اسے مختلف آپریٹنگ سسٹمز یا آنے والے ہر آپریٹنگ سسٹمز کے لئے الگ سے ڈرائیور مہیا کیا جائے کیونکہ نئے آنے والے آپریٹنگ سسٹم پر پرانا ڈرائیور کام نہیں کرے گا اور پرنٹر کو چلانے کے لئے صارف کو سورس کوڈ کی ضرورت پڑے گی جو کمپنی نے فراہم نہیں کیا چنانچہ اگر کمپنی نے یہ پرنٹر بنانا بند کردیا یا کمپنی ہی بند ہوگئی تو صارف کا پرنٹر کبھی کام نہیں کرے گا!! بہت ممکن ہے کہ کوئی دوسری کمپنی صارف کو یہ ڈرائیور فراہم کردے اس صورت میں صارف نے دو دفعہ قیمت ادا کی، ایک دفعہ پرنٹر کے لئے اور ایک دفعہ ڈرائیور کے لئے)

ایک دوسری مثال میں ہم فرض کرتے ہیں کہ احمد نے SM56 موڈیم انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہونے کے لئے خریدا جس کا ڈرائیو بھی کمپنی نے مختلف آپریٹنگ سسٹمز کے لئے فراہم کیا بشمول win98 جسے احمد استعمال کرتا ہے، پھر کمپنی نے یہ موڈیم اور اس کے ڈرائیور بنانے بند کردیے۔ احمد نے پھر انٹرنیٹ کے ذریعے تصاویر ارسال کرنے کے لئے ایک جدید کیمرہ خریدا جس کا ڈرائیور صرف WinME اور اس کے بعد کے آپریٹنگ سسٹمز کے لئے دستیاب ہے (win98 کے لئے نہیں کیونکہ وہ WinME سے پرانی ہے) تو اگر ہم فرض کریں کہ احمد Win98 اور WinME ایک ساتھ خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے تو اس طرح وہ موڈیم اور کیمرہ الگ الگ چلانے پر مجبور ہوگا اور انہیں ایک ساتھ نہیں چلاسکے گا اور اس سے اس کا مقصد بھی فوت ہوجائے گا جس کے لئے اس نے رقم خرچ کی یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے تصویر بھیجنا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ علما اس مسئلہ پر غور کریں اور ان مغالطوں سے بچیں جو SPA نے پوری دنیا میں اپنے مفاد کے لئے پھیلا رکھے ہیں اور انہیں بتائیں کہ جسے وہ ’’عوامی مفاد‘‘ کہتے ہیں وہ دراصل ان کے اپنے مفادات ہیں۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ مئی 2007 میں شائع ہوئی)

آزاد مصدراوپن سورسریڈ ہیٹسورس کوڈکلوزڈ سورسلینکس